ہریانہ حکومت نے 590 کروڑ روپے کے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک گھوٹالہ معاملے میں 5 آئی اے ایس افسران کے کردار کی تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو اجازت دے دی ہے۔ حکومت نے انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 17اے کے تحت تحقیقات کی اجازت دی ہے۔ اس منظوری کے بعد اب سی بی آئی متعلقہ افسران سے پوچھ تاچھ کر سکے گی اور ان کے کردار کی گہرائی سے جانچ کرے گی۔چنڈی گڑھ میونسپل کارپوریشن کے بینک کھاتے میں 116 کروڑ کی بے ضابطگی، 2 افراد کے خلاف مقدمہ درجواضح رہے کہ کوئی بھی پولیس افسر مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی سرکاری ملازم کی طرف سے مبینہ طور پر کیے گئے کسی بھی جرم کی تفتیش یا چھان بین نہیں کر سکتا۔ سی بی آئی نے ملزمان کے انکشافات اور تحقیقات میں سامنے آئے حقائق کی بنیاد پر آئی اے ایس افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تحقیقاتی ایجنسی اب ان انتظامی منظوریوں کی بھی تحقیقات کرے گی، جن کے ذریعہ سرکاری محکموں کے پیسے پرائیویٹ بینکوں میں جمع کرائے گئے تھے۔سی بی آئی نے بینک گھوٹالے کے سلسلے میں گزشتہ جمعرات کو چنڈی گڑھ اور پنچکولہ میں کئی مقامات پر تلاشی مہم چلائی تھی اور مبینہ دھوکہ دہی سے متعلق مالیاتی ریکارڈ اور ڈیجیٹل ثبوت ضبط کیے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک اور اے یو اسمال فنانس بینک کے کچھ افسران ہریانہ حکومت کے افسران کے ساتھ مل کر سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کی سازش رچی۔ الزام ہے کہ فرضی طریقوں سے سرکاری رقم کا غبن کیا گیا۔آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک: 590 کروڑ روپے کا فراڈ، 14000 کروڑ روپے کا نقصان، جانیں پورا معاملہ اور آر بی آئی گورنر کا موقفقابل ذکر ہے کہ اس ہائی پروفائل گھوٹالے میں اب تک 16 ملزمان کی گرفتاری ہو چکی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں مسلسل بینک افسران، سرکاری ملازمین اور دیگر مشتبہ افراد سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کئی اور بڑے انکشافات ہو سکتے ہیں۔ ہریانہ حکومت کے ایک ترجمان نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ترقی اور پنچایت محکمے کے ڈائریکٹر کی طرف سے فروری 2026 میں تشکیل دی گئی ایک تحقیقاتی کمیٹی نے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک اور اے یو اسمال فنانس بینک میں موجود کھاتوں میں بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا تھا۔ کمیٹی کی رپورٹ اور معاون دستاویزات کی بنیاد پر معاملے کو مجرمانہ تفتیش کے لیے اسٹیٹ ویجیلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو (ایس وی اینڈ اے سی بی) کو سونپ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد 23 فروری کو پنچکولہ واقع ایس وی اینڈ اے سی بی تھانے میں انسداد بدعنوانی ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ بعد میں معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تحقیات سی بی آئی کو سونپ دی گئی۔