نئی دہلی : مشرقِ وسطیٰ بحران اور پاکستانی فضائی حدود کی بندش،ایئرانڈیا کا سالانہ خسارہ دو ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔تفصیلات کے مطابق مودی سرکار کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث گرتی ہوئی بھارتی معیشت پر اب بیرونی سرمایہ کاروں کا عدم اعتماد مزید گہرا ہو گیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے بھارتی ایوی ایشن کی پستی کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا ہے، جس کے مطابق بھارتی قومی ایئر لائن ‘ایئر انڈیا’ کا سالانہ خسارہ تاریخ کی بدترین سطح یعنی دو ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش نے ایئر انڈیا کو بدترین مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔طویل روٹس اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث ایئر انڈیا اپنی کئی اہم ترین بین الاقوامی پروازیں بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے اس کی عالمی سرمایہ کاری میں بھی شدید کمی واقع ہوئی ہے۔بھارتی ایوی ایشن کی گرتی ہوئی ساکھ کا اصل بھانڈا ایئر انڈیا کی اہم شیئر ہولڈر ‘سنگاپور ایئر لائنز’ کی حالیہ رپورٹ نے پھوڑا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا کے سالانہ منافع میں 57.4 فیصد کی ریکارڈ کمی درج کی گئی ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی موجودہ پالیسیوں کے باعث اس خسارے میں مزید ہولناک اضافے کی توقع ہے۔