ابوظبی (16 مئی 2026): متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارتِ خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔وزیر مملکت خلیفہ شاہین نے ایک بیان میں کہا کہ ایران نے آپریشن کے آغاز کے 2 گھنٹے بعد ہی یو اے ای پر حملہ کر دیا تھا، اور ان حملوں میں شہری تنصیبات، ایئر پورٹس، بندرگاہوں، تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔وزیر مملکت نے بتایا کہ یو اے ای اپنی خودمختاری، سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اور مطالبہ کیا کہ ایران فوری طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 پر عمل درآمد کرے۔خلیفہ شاہین نے کہا آبنائے ہرمز کو اقتصادی دباؤ یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا بحری قزاقی کے مترادف ہے، یو اے ای نے ایران کے دہشت گرد حملے کی واضح مذمت نہ کرنے والے بیان کو ناقابل قبول قرار دے دیا، اور کہا خلیجی ممالک پر ایرانی حملے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔پاکستان کا امن مشن ناکام نہیں ہوا، عباس عراقچیانھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ایرانی جارحیت کے کسی بھی جواز، وضاحت یا بہانے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ادھر یو اے ای وزارت خارجہ نے خطے کے امن و استحکام اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یو اے ای کے علاقائی استحکام اور سیکیورٹی کے لیے شراکت دار ممالک سے مسلسل رابطے ہیں۔اماراتی وزارت خارجہ نے اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کو اوّلین ترجیح قرار دیا اور کہا ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، امارات اپنے دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ یو اے ای نے خلیجی ممالک اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ قریبی مشاورت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔