اسپیس ایکس کا راکٹ 5 اگست کو چاند سے ٹکرانے کی پیش گوئی سامنے آگئی ، راکٹ کا یہ حصہ تقریباً پانچ منزلہ عمارت جتنا اونچا ہے۔تفصیلات کے مطابق ماہرِ فلکیات اور ‘پروجیکٹ پلوٹو’ نامی سافٹ ویئر کے ڈویلپر بل گرے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپیس ایکس کے فالکن 9 (Falcon 9) راکٹ کا ایک بڑا حصہ 5 اگست 2026 کو چاند کی سطح سے ٹکرا جائے گا۔ اس ممکنہ تصادم کی رفتار آواز کی رفتار سے سات گنا زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصادم 5 اگست کو عالمی وقت کے مطابق صبح 06:44 بجے متوقع ہے ، راکٹ کا حصہ چاند کے ‘آئن اسٹائن کریٹر’ (Einstein crater) کے قریب گرے گا، جو چاند کے سامنے والے اور عقبی حصے کے درمیان واقع ہے، ٹکراتے وقت راکٹ کی رفتار تقریباً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔یہ راکٹ اسٹیج (2025-010D) جنوری 2025 میں لانچ کیا گیا تھا، جس کا مقصد دو نجی کمپنیوں (Firefly Aerospace اور ispace) کے مون لینڈرز کو خلا میں بھیجنا تھا تاہم اپنا مشن پورا کرنے کے بعد یہ حصہ زمین کے گرد ایک لمبے مدار میں گھوم رہا تھا اور اب اس کا مدار چاند کے راستے میں آگیا ہے۔راکٹ کا یہ حصہ تقریباً پانچ منزلہ عمارت جتنا اونچا ہے، بل گرے کے مطابق اس تصادم سے چاند کی سطح پر 16 سے 18 میٹر چوڑا گڑھا بن سکتا ہے۔ چونکہ یہ تصادم چاند کے روشن حصے میں ہوگا اور راکٹ کا وزن و سائز معلوم ہے، اس لیے ناسا کا ‘لونر ریکونیسنس آربیٹر’ مستقبل میں اس گڑھے کی تصاویر لے سکے گا۔کیا زمین سے یہ منظر نظر آئے گا؟ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین سے اس تصادم کو دیکھنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ سورج کی روشنی کی وجہ سے تصادم سے پیدا ہونے والا کوئی بھی ممکنہ فلیش (چمک) نظر نہیں آئے گا، جیسا کہ 2009 کے ایک سابقہ مشن میں بھی ہوا تھا۔بل گرے نے اس واقعے کو خلائی صنعت کی "لاپروائی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ اس تصادم سے کسی کو خطرہ نہیں ہے، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ کمپنیاں مشن مکمل ہونے کے بعد اپنے راکٹوں کے فضلے کو ٹھکانے لگانے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔انہوں نے مشورہ دیا کہ چاند کی طرف جانے والے راکٹوں کو ایسے مدار میں بھیجا جائے جہاں سے وہ زمین اور چاند کے نظام سے دور نکل جائیں۔