نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اُناؤ ریپ کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے سابق بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو ملی بڑی راحت واپس لیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے تحت اس کی سزا پر روک لگا کر اسے ضمانت دی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے دہلی ہائی کورٹ کو معاملے پر نئے سرے سے غور کرنے اور دوبارہ فیصلہ سنانے کی ہدایت دی ہے۔چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے سی بی آئی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ معاملے میں کئی اہم نکات ایسے ہیں جن پر دہلی ہائی کورٹ نے مناسب انداز میں غور نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس حساس مقدمے میں تمام حقائق اور قانونی پہلوؤں کا باریکی سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ یا تو کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا کے خلاف دائر اپیل پر تین ماہ کے اندر فیصلہ سنائے یا پھر سزا پر روک لگانے کی درخواست پر تازہ حکم جاری کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ نئے فیصلے میں تمام قانونی اور حقائق پر مبنی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے۔یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں دہلی ہائی کورٹ نے کلدیپ سنگھ سینگر کی عمر قید کی سزا پر عبوری روک لگا کر اسے ضمانت دے دی تھی۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ بعد ازاں سی بی آئی نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔اسی دوران سپریم کورٹ نے دسمبر 2025 میں ہی دہلی ہائی کورٹ کے ضمانت حکم پر عبوری روک لگا دی تھی اور کلدیپ سنگھ سینگر کے ساتھ ساتھ اتر پردیش حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا تھا۔کلدیپ سنگھ سینگر کو سال 2019 میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اناؤ ریپ کیس میں قصوروار قرار دیا تھا۔ عدالت نے نابالغ لڑکی سے عصمت دری کے معاملے میں اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ مقدمہ پورے ملک میں غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ نے مسلسل یہ الزام لگایا تھا کہ سینگر اور اس کے ساتھی انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں اور ہراساں کر رہے ہیں۔کلدیپ سنگھ سینگر متاثرہ لڑکی کے والد کی حراست میں موت سے متعلق ایک الگ مقدمے میں بھی سزا کاٹ رہا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے جنوری 2026 میں اس معاملے میں سزا پر روک لگانے کی اس کی دوسری درخواست مسترد کر دی تھی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ سینگر کا مجرمانہ ریکارڈ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور سزا پر روک لگانے کے لیے کوئی نیا جواز سامنے نہیں آیا۔