’اصلاحات پسند نہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت‘، برکس اجلاس میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا بیان

Wait 5 sec.

نئی دہلی: برکس اجلاس 2026 کے دوسرے دن وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے عالمی نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بدلتی دنیا میں اصلاحات اب پسند کا معاملہ نہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی ادارے آج کے تقاضوں اور چیلنجز کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث عالمی حکمرانی اور کثیر فریقی نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔بھارت منڈپم میں منعقدہ اجلاس کے تیسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ایس جے شنکر نے کہا کہ دنیا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ جڑی ہوئی، پیچیدہ اور کثیر قطبی ہو چکی ہے، لیکن عالمی اداروں کا ڈھانچہ اب بھی پرانے دور کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد کی کمی، فیصلوں میں تاخیر اور نمائندگی کے فقدان نے عالمی اداروں کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ایسے عالمی نظام کو فروغ دیں جو زیادہ نمائندہ، جواب دہ اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ہو۔ ان کے مطابق کثیر فریقی نظام کو مؤثر اور قابل اعتماد بنانے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ ایسے کثیر فریقی نظام کی حمایت کرتا آیا ہے جو موجودہ عالمی حقیقتوں کی عکاسی کرے اور ابھرتی معیشتوں و ترقی پذیر ممالک کی توقعات پر پورا اترے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں اصلاحات کو فوری ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کا موجودہ ڈھانچہ آج کی دنیا کی نمائندگی نہیں کرتا۔ انہوں نے مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں میں توسیع کی حمایت کرتے ہوئے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کو مناسب نمائندگی دینے پر زور دیا۔ایس جے شنکر نے کہا کہ بین الحکومتی مذاکراتی عمل میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے اور مختلف ممالک کو اپنے خیالات رکھنے کے مواقع ملے ہیں، تاہم اب محض عمومی بحث سے آگے بڑھ کر عملی اور متن پر مبنی مذاکرات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ برکس نے جوہانسبرگ اجلاس میں بھی اس معاملے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا تھا۔انہوں نے عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سپلائی چین کی کمزوریاں، غذائی اور توانائی تحفظ کے مسائل اور وسائل تک غیر مساوی رسائی نے ترقی پذیر ممالک کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ان کے مطابق کثیر فریقی ترقیاتی بینکوں کو زیادہ مضبوط اور مؤثر بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی اور موسمیاتی مالیات آسانی سے دستیاب ہو سکیں۔وزیر خارجہ نے عالمی تجارتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر منصفانہ تجارتی طریقے، سپلائی چین کا محدود مراکز تک سمٹ جانا اور منڈیوں تک غیر یقینی رسائی عالمی معیشت کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے عالمی تجارتی تنظیم کو مضبوط بنانے اور ترقی پذیر ممالک کے خدشات کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔یس جے شنکر نے کہا کہ موجودہ دور کا واضح پیغام یہی ہے کہ تعاون، مسلسل بات چیت اور اصلاحات ہی عالمی استحکام اور زیادہ منصفانہ بین الاقوامی نظام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔