تہران (15 مئی 2026): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دنیا پر ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں چاہتا، ہمارا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور یہی ہماری پالیسی ہے۔عباس عراقچی نے کہا کہ تہران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ ہم نے صرف دفاع کیا اور عوام کی مدد سے بھرپور مزاحمت کی اور امریکیوں کو ان کے اہداف حاصل نہیں کرنے دیے۔ 40 روز کی جنگ میں امریکا بے بس ہو گیا اور اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ تنازعات کا حل صرف مذاکرات میں ہے، لیکن اس بار معاملہ بھروسے کا ہے، ان پر اعتماد نہیں۔ اور امریکیوں پر اعتماد نہ کرنے کے تمام جواز موجود ہیں۔ امریکا کا بدلتا موقف عدم اعتماد کی بڑی وجہ ہے۔ امریکا جان لے کہ جو چیزیں وہ جنگ کے میدان میں حاصل نہ کر سکا وہ مذاکرات کی میز پر بھی حاصل نہیں کر سکے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ تمام سفارتی کوششوں پر مثبت جواب دیے۔ 2015 میں بھی امریکیوں کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا، لیکن جیسے ہی ٹرمپ کی نئی انتظامیہ آئی، یہ معاہدہ بغیر کسی وجہ ختم کر دیا۔ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں جب بھی امریکا سے مذاکرات کیے تو ہر بار دوران مذاکرات اس نے حملہ کیا۔ ایرانی صرف عزت کی زبان سمجھتے ہیں اور اب تک احترام کی زبان ہی استعمال کی ہے۔ ہم اور بھی زبان استعمال کرسکتے لیکن احتیاط کر رہے ہیں۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کا ذمہ دار ایران نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا چاہتے ہیں، ہمارے خلاف جنگ میں ملوث ممالک کے علاوہ آبنائے ہرمز سب کیلیے کھلا ہے۔ کسی کو آبنائے ہرمز سے گزرنا ہے تو ہمیں اعتماد میں لینا ہوگا۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی طرف سے جاری مصالحتی کوششیں مشکلات کا شکار ضرور ہیں، لیکن ابھی ناکام نہیں ہوئیں۔ ہم بھی مذاکرات کے لیے پر عزم ہیں لیکن وہ سنجیدگی پر مبنی ہونے چاہئیں۔