سپریم کورٹ کا ہفتے میں دو دن ویڈیو کانفرنسنگ سے سماعت کا فیصلہ، ورک فرام ہوم اور کار پولنگ پر زور

Wait 5 sec.

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک میں ایندھن کی بچت اور توانائی سے متعلق بڑھتے خدشات کے پیش نظر عدالتی نظام میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہفتے میں دو دن عدالت کی کارروائی مکمل طور پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انجام دی جائے گی، جبکہ عدالتی عملے کے ایک بڑے حصے کو گھر سے کام کرنے یعنی ورک فرام ہوم کی سہولت بھی دی جائے گی۔یہ فیصلہ جمعہ کی صبح چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں منعقد ہونے والی فل کورٹ میٹنگ میں لیا گیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ نئے مقدمات کی سماعت کے لیے مقرر دنوں یعنی پیر اور جمعہ کو مکمل کارروائی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہوگی۔ اگر مستقبل میں عدالت کی جانب سے کسی اور دن کو بھی اس مقصد کے لیے مقرر کیا جاتا ہے تو اس دن بھی یہی نظام نافذ رہے گا۔سپریم کورٹ کے جنرل سکریٹری بھرت پراشر کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق یہ اقدامات مرکزی حکومت کے 12 مئی 2026 کے دفتر یادداشت کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔ اس میں ایندھن کی بچت اور غیر ضروری سفر کو کم کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ عدالت نے اسی سلسلے میں ججوں کے درمیان کار پولنگ کو بھی فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سرکاری اور ذاتی گاڑیوں کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔سرکلر میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی رجسٹری کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے 50 فیصد تک ملازمین کو ہفتے میں دو دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے لیے متعلقہ رجسٹراروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہفتہ وار روسٹر تیار کریں تاکہ عدالتی کارروائی اور انتظامی امور متاثر نہ ہوں۔عدالت نے رجسٹری حکام کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ ویڈیو کانفرنسنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور تکنیکی سہولتیں بروقت فراہم کی جائیں تاکہ سماعت یا دفتری امور میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو ہر وقت فون پر دستیاب رہنا ہوگا۔ اگر کسی بھی وقت دفتر میں ان کی موجودگی ضروری سمجھی گئی تو انہیں فوری طور پر دفتر پہنچنا ہوگا۔ متعلقہ رجسٹراروں کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ اگر ورک فرام ہوم کی وجہ سے کسی اہم کام میں رکاوٹ پیدا ہو تو وہ اس انتظام میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔