آبنائے ہرمز ایران کے خلاف جنگ میں شامل ممالک کے سوا سب کے لیے کھلی رہے گی: عباس عراقچی

Wait 5 sec.

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز تمام معمول کے تجارتی جہازوں کے لیے کھلی رہے گی، تاہم ان ممالک کے جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو ایران کے خلاف جاری تنازع یا جنگ میں شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بات نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی پالیسی ہمیشہ سے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا رہی ہے اور تہران اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران پہلے بھی کئی ہندوستانی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر چکا ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے والے جہازوں کو ایران کی فوج کے ساتھ رابطہ کرنا ہوگا کیونکہ بعض مقامات پر بارودی سرنگیں اور دیگر رکاوٹیں موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایران جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرے گا تاکہ کسی قسم کا حادثہ پیش نہ آئے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی خواہش ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی رہے، کیونکہ تمام جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت ایران کے مفاد میں بھی ہے۔ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ صرف وہی ممالک اس سہولت سے محروم ہوں گے جو ایران کے خلاف فوجی کارروائی یا جنگی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران نے سن 2015 کے معاہدے پر دستخط کرکے پہلے ہی یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور تہران ہمیشہ اس حوالے سے اعتماد سازی کے لیے تیار رہا ہے۔عباس عراقچی نے امریکہ پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران ایک طرح کی ناکہ بندی کا سامنا کر رہا ہے اور مغربی ایشیا میں پیدا ہونے والی بے چینی امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی خطے میں جاری کشیدگی اور جارحیت ختم ہوگی، حالات دوبارہ معمول پر آ جائیں گے۔ ان کے مطابق ایران اور عمان مل کر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنائیں گے۔عباس عراقچی تین روزہ سرکاری دورے پر بدھ کے روز نئی دہلی پہنچے تھے۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب عالمی توانائی بازار بھی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ یہ اہم سمندری راستہ دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل اور گیس سپلائی کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔