بلیک آؤٹ کے دوران تاجر کے قتل پر تیجسوی یادو کا سخت ردعمل، حکومت کو مجرموں کی ساتھی قرار دیا

Wait 5 sec.

بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے پٹنہ میں بلیک آؤٹ مشق کے دوران ایک تاجر کے قتل کے واقعے پر نتیش کمار حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں حکومت عملی طور پر مجرموں کی معاون بن چکی ہے اور اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہیے۔تیجسوی یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے بلیک آؤٹ نافذ کیا اور پٹنہ میں مجرموں نے اسی اندھیرے کو سنہری موقع میں تبدیل کرتے ہوئے ایک تاجر کو گولی مار دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے اور اس سے ریاست کی امن و قانون کی صورتحال پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔آر جے ڈی رہنما نے کہا کہ بلیک آؤٹ شروع ہونے کے صرف پانچ منٹ بعد پیش آنے والا یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مجرموں نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ واردات انجام دی۔ انہوں نے کہا کہ اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آور آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ زخمی تاجر بعد میں اسپتال میں دم توڑ گیا۔تیجسوی یادو نے سوال اٹھایا کہ جس حکومت کو جرائم روکنے اور مجرموں کو گرفتار کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا، وہ آخر مجرموں کی ساتھی کیسے بن گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بات کی مکمل جانچ ہونی چاہیے کہ آخر بلیک آؤٹ کو مجرموں نے قتل کی سازش کے لیے کیسے استعمال کیا اور انہیں اس واردات کو انجام دینے میں کس حد تک آسانی ملی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس سنگین چوک کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ کہیں مجرموں اور حکومت میں بیٹھے کچھ افراد کے درمیان کوئی سازباز یا خفیہ تعلق تو موجود نہیں۔ واضح رہے کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کے تحت جمعرات کی شام پٹنہ سمیت بہار کے چھ اضلاع میں بلیک آؤٹ سے متعلق مشق کی گئی تھی۔ شام سات بجے سائرن بجنے کے ساتھ ہی بجلی کی سپلائی روک دی گئی تھی، جسے 15 منٹ بعد بحال کر دیا گیا۔اسی دوران پٹنہ کے سلطان گنج تھانہ علاقے میں نامعلوم حملہ آوروں نے ایک تاجر کو گولی مار دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور پہلے سے گھات لگائے ہوئے تھے اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے واردات کے بعد فرار ہو گئے۔ پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے، تاہم ابھی تک کسی گرفتاری کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔