ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف مبینہ تبصروں کے متعلق درج ایف آئی آر کے سلسلے میں بڑی راحت ملی ہے۔ جمعرات (21 مئی) کو کلکتہ ہائی کورٹ نے ابھیشیک بنرجی کو راحت دیتے ہوئے مغربی بنگال پولیس کو ان کے خلاف کسی بھی قسم کی تعزیری کارروائی کرنے سے روک دیا۔ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے خلاف ایف آئی آر درج، اشتعال انگیز تقریر کا ہے معاملہکلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال پولیس کو ہدایت دی کہ وہ ابھیشیک بنرجی کے خلاف 31 جولائی تک کوئی بھی تعزیری کارروائی نہ کرے۔ سماعت کے دوران جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے مزید کہا کہ یہ عبوری تحفظ اس شرط پر دی جا رہی ہے کہ ابھیشیک بنرجی پولیس کی تحقیقات میں تعاون کریں گے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ عرضی گزار (ابھیشیک بنرجی) پہلے سے اجازت لیے بغیر بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے اور اس سے قبل تحقیقاتی افسران کو 48 گھنٹے کا نوٹس دینا ضروری ہے۔ہائی کورٹ نے یہ عبوری حکم ابھیشیک بنرجی کی اس عرضی پر دیا، جس میں انہوں نے حال ہی میں مکمل ہونے والے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل انتخابی ریلیوں میں کی گئی اپنی تقریر کے خلاف درج ایک مجرمانہ معاملے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ شکایت کنندہ نے ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ پر اپوزیشن پارٹی کے کارکنان کو نشانہ بناتے ہوئے اشتعال انگیز تقریر کرنے اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو دھمکی دینے کا الزام عائد کیا تھا۔سینئر وکیل کلیان بندیوپادھیائے ہائی کورٹ میں ابھیشیک بنرجی کی طرف سے پیش ہوئے اور الزام عائد کیا کہ ان کے کلائنٹ کے خلاف معاملہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ اقتدار بدلنے کے فوراً بعد بدنیتی پر مبنی طریقے سے مقدمہ چلانے کے خلاف ہے۔‘‘ حالانکہ عدالت نے بنرجی کے تبصروں کی سخت مذمت کی۔ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ ابھیشیک بنرجی کو متنازعہ تبصرے بالکل بھی نہیں کرنے چاہیے تھے۔ شکایت کنندہ کی جانب سے سینئر وکیل ِبلودل بھٹاچاریہ اور ریاستی حکومت کی طرف سے سینئر وکیل دھیرج ترویدی پیش ہوئے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 30 جولائی کو ہوگی۔