دورہ چین کے بعد ٹرمپ کا ایران کے جوہری پروگرام پر لچک کا مظاہرہ

Wait 5 sec.

واشنگٹن(15 مئی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ‘حقیقی عزم’ کی صورت میں جوہری پروگرام معطل کرنے کے معاہدے پر آمادگی کا اظہار کردیا۔واشنگٹن واپسی پر صدارتی طیارے ‘ایئر فورس ون’ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران ‘حقیقی عزم’ کا مظاہرہ کرے تو وہ ایران کے جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے معطل کرنے کے معاہدے پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔صدر ٹرمپ نے ان رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے پاس اب بھی میزائل استعمال کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکی فوجی مہم کے نتیجے میں ایران کے میزائلوں کا 80 فیصد ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے ان رپورٹس کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے نیویارک ٹائمز کے ایک صحافی کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا اور ان کے کام کو ‘غداری’ سے تعبیر کیا۔مزید برآں، امریکی صدر نے بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کے بعد وہ ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر عائد پابندیاں ہٹانے پر غور کریں گے اور اس معاملے پر جلد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔دوسری جانب اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا کو بتایا کہ امریکا نے ایران سے رابطہ کر کے مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک موجودہ تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی یا فوجی، دونوں میں سے کسی بھی راستے کو اپنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔