میڈرڈ : اسپین حکومت نے ملک میں مقیم تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے نئی پالیسی منظور کرلی ہے، منصوبے کے تحت اہل افراد کو ایک سال کا قابلِ تجدید رہائشی اجازت نامہ جاری کیا جائے گا۔حکومتی منصوبے کے مطابق اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے افراد اپنی قانونی حیثیت درست کرنے کے بعد بتدریج اسپین کے باقاعدہ روزگار، سماجی اور انتظامی نظام کا حصہ بن سکیں گے۔پالیسی کے تحت درخواست گزاروں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ یہ ثابت کریں کہ وہ یکم جنوری سے قبل اسپین پہنچ چکے تھے اور درخواست جمع کرانے سے پہلے کم از کم پانچ ماہ سے ملک میں مقیم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا مجرمانہ ریکارڈ بھی صاف ہونا ضروری ہوگا۔حکام کے مطابق درخواستیں 16 اپریل سے آن لائن جمع کرائی جا سکیں گی، جبکہ 20 اپریل سے ذاتی طور پر بھی درخواستیں وصول کی جائیں گی۔ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ جن افراد کو عارضی قانونی حیثیت مل جائے گی، وہ ایک سال مکمل ہونے کے بعد موجودہ امیگریشن قوانین کے تحت مختلف اقسام کے ورک پرمٹ یا رہائشی اجازت ناموں کے لیے بھی درخواست دے سکیں گے۔پالیسی میں خاندانی وحدت کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اگر درخواست گزار کے ساتھ اس کا شریکِ حیات، رجسٹرڈ پارٹنر یا دیگر قریبی رشتہ دار ایک ہی گھر میں رہتے ہوں تو ان کی درخواستوں پر بھی بیک وقت کارروائی کی جائے گی تاکہ خاندان الگ نہ ہو۔درخواست دہندگان کو اپنے آبائی ممالک سے مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونے کا سرکاری سرٹیفکیٹ فراہم کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی جائے گی۔درخواستوں کی وصولی کے لیے ملک بھر میں 60 سوشل سکیورٹی دفاتر، 371 ڈاک خانے اور پانچ امیگریشن دفاتر مختص کیے گئے ہیں تاکہ درخواست گزاروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔یاد رہے کہ اس سے قبل 2005 میں بھی اسپین نے بڑے پیمانے پر قانونی حیثیت دینے کا پروگرام شروع کیا تھا، جس کے تحت تقریباً پانچ لاکھ ستتر ہزار تارکینِ وطن کو قانونی رہائش فراہم کی گئی تھی۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ پروگرام صرف ان افراد کے لیے ہے جو پہلے سے اسپین میں موجود ہیں اور مقررہ شرائط پوری کرتے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد نئے افراد کو اسپین آنے کی اجازت دینا نہیں۔حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے غیر مجاز ایجنٹس اور سوشل میڈیا دعوؤں سے محتاط رہیں جو اس پروگرام کے نام پر بیرونِ ملک بھیجنے کے جھوٹے وعدے کرتے ہیں، کیونکہ ایسے دعوے اکثر دھوکہ دہی اور مالی فراڈ پر مبنی ہوتے ہیں۔