نئی دہلی/جئے پور: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے نیٹ معاملہ پر ایک بار پھر مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے طلبا کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو حکومت طلبا کے سوالوں کا جواب لاٹھی سے دیتی ہے، وہ جوابدہی سے نہیں بلکہ خوف سے چلتی ہے۔ راہل گاندھی نے نیٹ معاملہ کو نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اس معاملہ پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ جب ملک کے نوجوان امتحانی بے ضابطگیوں سے پریشان ہو کر سڑکوں پر انصاف مانگ رہے تھے، اس وقت حکومت سنجیدگی دکھانے میں ناکام رہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نیٹ پیپر لیک نے لاکھوں طلبا کے مستقبل کو متاثر کیا اور کئی خاندان ذہنی دباؤ سے گزرنے پر مجبور ہوئے، لیکن حکومت نے نہ ذمہ داری قبول کی اور نہ ہی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف کوئی کارروائی کی۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ جب طلبا، نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا اور کانگریس کارکنان انصاف کی مانگ کر رہے ہیں تو مختلف ریاستوں میں طاقت کے استعمال کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھے گی جب تک امتحانی نظام کو محفوظ اور مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔راہل گاندھی نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایسا مضبوط نظام بننا چاہیے جس سے امتحانی عمل پر اعتماد بحال ہو اور نوجوانوں کا مستقبل محفوظ رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوجوانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنا کسی بھی حکومت کے لیے مناسب نہیں اور طلبا کے سوالوں کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔मोदी सरकार में पेपर बिकता है..हर बार युवाओं का भविष्य लुटता हैकांग्रेस प्रदेश अध्यक्ष @GovindDotasra जी के नेतृत्व में राजस्थान कांग्रेस का केंद्रीय शिक्षा मंत्री धर्मेंद्र प्रधान के इस्तीफे की मांग को लेकर जोरदार विरोध-प्रदर्शन।भाजपा मुख्यालय का घेराव, जयपुर… pic.twitter.com/Ve3hGlMHIy— Rajasthan PCC (@INCRajasthan) May 21, 2026ادھر راجستھان کی راجدھانی جئے پور میں نیٹ معاملہ کو لے کر کانگریس نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ریاستی کانگریس صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا کی قیادت میں کارکنان نے بی جے پی دفتر کی طرف مارچ کیا۔ احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے کو ملی۔ حالات کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔احتجاج میں راجستھان اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد ٹیکارام جولی سمیت کئی کانگریس لیڈران شریک ہوئے۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔ کانگریس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس معاملہ پر آئندہ بھی اپنی تحریک جاری رکھے گی۔