غزہ: اسرائیل کے بد ترین حملے میں نشانہ بننے والے ایک خاندان کے 132 افراد کی لاشیں تباہ عمارت کے ملبے سے اب تک نہ نکالی جاسکیں۔فلسطینیوں پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کو ختم ہوئے اگرچہ کئی مہینے بیت چکے ہیں، لیکن غزہ کی پامال سرزمین پر قیامت کے آثار آج بھی نمایاں ہیں۔خبر رساں اداروں کی جانب سے کہا گیا کہ اسرائیل کے بدترین حملوں کا نشانہ بننے والی ایک کثیر المنزلہ عمارت کے ملبے سے لاشیں نکالنے کا کام تاحال مکمل نہیں ہو سکا، جہاں ایک ہی خاندان کے 132 افراد ملبے تلے دب کر مارے گئے تھے۔یہ المناک واقعہ سن 2024 میں اسرائیلی بمباری کے دوران پیش آیا تھا، جسے فلسطینیوں کی نسل کشی کا بدترین اور سفاکانہ ترین حملہ قرار دیا گیا تھا۔عالمی امدادی عملہ تاحال اس عمارت کے ملبے سے اپنوں کی لاشیں تلاش کرنے میں مصروف ہے۔اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق غزہ میں ہر طرف صرف تباہی کے نشانات باقی رہ گئے ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ کی زیادہ تر رہائشی عمارتیں یا تو مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہیں یا پھر رہنے کے قابل نہیں رہیں۔اقوامِ متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ ان تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے اب بھی ہزاروں نامعلوم لاشیں دبی ہوئی ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے وسائل کی شدید قلت کا سامنا ہے۔