سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ آدتیہ آنند او روپیش رائے کو 18 مئی کو دوپہر 2 بجے عدالت کے سامنے پیش کرے۔ ان دونوں کو حال ہی میں نوئیڈا میں مزدوروں کے احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت آدتیہ آنند کے بھائی کیشو آنند کی طرف سے دائر کردہ رِٹ پٹیشن پر سماعت کر رہی تھی، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یوپی پولیس گرفتار کیے گئے لوگوں کو حراست میں تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔نوئیڈا کارکنان احتجاج: آر جے ڈی ترجمان پرینکا بھارتی اور ڈاکٹر کنچنا یادو پر ایف آئی آر درج، ’فیک نیوز‘ پھیلانے کا الزامجسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی ڈویژن بنچ نے ریاستی حکوت کو نوٹس جاری کیا اور دونوں افراد کو پیش کرنے کی ہدایت دی۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ دونوں ملزم افراد صرف مزدوری میں اضافہ کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جائے۔ جسٹس ناگرتھنا نے ریاستی حکومت کے وکیل سے زبانی طور پر کہا کہ ’’وہ دہشت گر نہیں ہیں، وہ صرف کم از کم مزدوری جیسے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘‘عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’بائیں بازو کے نظریے‘ رکھنے سے کوئی شخص مجرم نہیں بن جاتا۔ ڈویژن بنچ نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ انہیں عدالتی حراست میں ہی رکھا جائے، جبکہ وکلاء نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ریاستی حکومت انہیں پولیس ریمانڈ پر بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ عرضی کے مطابق آدتیہ آنند ایک سافٹ ویئر انجنیئر اور سماجی کارکن ہیں، جبکہ روپیش رائے ایک آٹو ڈرائیور ہیں۔ دونوں نے مزدوروں کے لیے کم از کم مزدوری میں اضافہ اور کام کے مناسب اوقات کے مطالبے کو لے کر ہوئے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔’محنت کش ملازمین اور مزدوروں کے سامنے روٹی اور مستقبل کا بحران‘، نوئیڈا احتجاجی مظاہروں پر کانگریس کا تبصرہاس کے بعد انہیں اتر پردیش لے جایا گیا، جہاں انہیں بھارتیہ نیاۓ سنہیتا (بی این ایس) کی دفعات 191(1)، 191 (2)، 115(2)، 121(1)، 121(2)، 125(1)، 351(3)، 352، 61(2) اور مجرمانہ قانون ترمیمی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت گرفتار کیا گیا۔ جہاں تک روپیش کی بات ہے اس کے متعلق یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس نے انہیں پھنسانے کے لیے جھوٹا بیان اور برآمدگی دکھائی۔ انہوں نے مزدوروں کے احتجاجی مظاہروں سے خطاب بھی کیا تھا اور پولیس کے ذریعہ انہیں بوٹینیکل گارڈن میٹرو اسٹیشن سے لے جایا گیا۔