ایرانی سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اعلیٰ افزودہ یورینیم ملک سے باہر نہ بھیجنے کا حکم جاری کر دیا۔خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق سپریم لیڈر نے حکم دیا ہے کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔رائٹرز کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کے فیصلے نے تہران کے مؤقف کوسخت کر دیا ہے جس سے امریکا اسرائیل سےجنگ ختم کرنے میں مشکل پیش آسکتی ہے۔ایرانی حکام کو شک ہے یہ جنگ بندی امریکا کی چال ہے کیونکہ یورینیم باہر بھیجنے سے ایران امریکا اور اسرائیل کے سامنے کمزور ہو گا۔پیشکشامریکا نے ایران کو 25 ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی اور 3.67 فی صد یورینیم افزودگی کی پیش کش کر دی ہے۔ایرانی سیاسی مبصر علی گولہاکی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کو ایک نئی تجویز پیش کی، جس میں پچیس ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے، تین اعشاریہ سڑسٹھ فی صد یورینیم افزودگی کی اجازت اور محدود مدت کے لیے ایرانی تیل کی فروخت کی سہولت شامل ہے۔ایکس پر بیان میں علی گولہاکی نے لکھا امریکا چاہتا ہے جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی، پابندیوں میں نرمی اور جوہری اقدامات سے متعلق تمام نکات پر ایک ساتھ اتفاق کیا جائے، جب کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ ان اقدامات پر تیس دن میں عمل درآمد اور تصدیق کے بعد ہی جوہری مذاکرات آگے بڑھائے جائیں۔وزیر خارجہامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کیلیے کچھ اچھے آثار موجود ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستانی حکام آج تہران کا سفر کریں گے، امید ہے کہ اس سے اس معاملے کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیح ایک اچھا معاہدہ کرنا ہے اور یہ ہمیشہ سے ان کی ترجیح رہی ہے، اگر ہم ایک اچھا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ بہت بہترین بات ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم کوئی اچھا معاہدہ حاصل نہیں کر پاتے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں، میں ان کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ کیا ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کیلیے کچھ اچھے آثار ضرور ہیں لیکن میں حد سے زیادہ پُرامید بھی نہیں ہونا چاہتا، اس لیے دیکھتے ہیں کہ اگلے چند دنوں میں کیا ہوتا ہے۔