فنڈنگ بحران کا اثر، ورلڈ سینٹرل کچن غزہ میں غذائی امدادی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور

Wait 5 sec.

نئی دہلی: بین الاقوامی امدادی تنظیم ورلڈ سینٹرل کچن شدید مالی بحران کا سامنا کر رہی ہے، جس کے بعد تنظیم نے آئندہ مہینوں میں غزہ میں اپنی غذائی امدادی کارروائیوں کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ غزہ کے لوگوں کو خوراک فراہم کرنے کی پوری ذمہ داری کسی ایک ادارے کے کندھوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔تنظیم نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری تفصیلی بیان میں غزہ کی موجودہ صورت حال اور اپنے مالی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ میں غذائی تقسیم کے عمل کو جنگ بندی سے پہلے کی سطح تک محدود کرے گی۔ تنظیم کے مطابق یہ فیصلہ ضرورت میں کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ مالی وسائل کی شدید قلت کے سبب کیا جا رہا ہے۔ورلڈ سینٹرل کچن نے بتایا کہ 2023 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس نے غزہ کے لوگوں کو خوراک فراہم کرنے پر 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ تنظیم کے مطابق اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث غزہ میں خوراک کی فراہمی کا نظام بری طرح متاثر ہوا، جس کے بعد اس نے اپنی کارروائیوں میں توسیع کرتے ہوئے روزانہ تقریباً 10 لاکھ گرم کھانے فراہم کرنے کا انتظام کیا تھا۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں کسی ایک رضاکار ادارے کے لیے طویل عرصے تک جاری رکھنا ممکن نہیں۔ اسی لیے عالمی برادری کو غزہ میں انسانی امداد کے دائرے کو مزید وسیع کرنا ہوگا۔تنظیم نے کہا کہ ایران اور پورے خطے میں جاری کشیدگی نے غزہ تک امدادی سامان پہنچانے والے سرحدی راستوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کے باوجود تنظیم کو اس وقت اتنے ٹرک دستیاب ہو رہے ہیں کہ امدادی خدمات کو کسی حد تک جاری رکھا جا سکے۔ورلڈ سینٹرل کچن کے بانی خوسے آندریس نے کہا کہ غزہ کے بھوکے خاندانوں تک خوراک پہنچانے کے لیے مزید ٹرکوں اور غذائی سامان کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک اور ایندھن کی مسلسل فراہمی غزہ کے لیے زندگی کی اہم ضرورت ہے اور امدادی راستوں کو ہر حال میں کھلا رکھا جانا چاہیے۔تنظیم نے زور دیا کہ غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی نہایت ضروری ہے۔ اس کے مطابق صرف ہنگامی غذائی امداد کافی نہیں، بلکہ طویل مدتی غذائی تحفظ کے لیے حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور شراکت دار ممالک کو مستقل اور محفوظ مالی تعاون فراہم کرنا ہوگا۔ورلڈ سینٹرل کچن نے کہا کہ غزہ میں لوگوں نے اپنے گھر اور روزگار دونوں کھو دیے ہیں۔ ایسے میں صرف فلسطینیوں کی مشکلات پر گفتگو کافی نہیں بلکہ عملی اور ٹھوس مدد کی ضرورت ہے۔ تنظیم کے مطابق غزہ میں انسانی بحران میں کچھ کمی ضرور آئی ہے، لیکن فلسطینیوں کو اب بھی خوراک، طبی سامان اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت کا سامنا ہے۔