بنگال: عید الاضحیٰ سے قبل قربانی سے متعلق ضابطوں پر عرضیاں خارج، حکومت کو 24 گھنٹے میں فیصلہ کا حکم

Wait 5 sec.

کولکاتا: کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے عید الاضحیٰ سے قبل جانوروں کی قربانی سے متعلق نافذ ضابطوں کو چیلنج کرنے والی عرضیاں خارج کر دی ہیں۔ عدالت نے جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق قانون کے تحت مذہبی بنیاد پر رعایت دینے اور بعض بڑے جانوروں کے ذبیحہ کی اجازت دینے کی مانگ کو قبول نہیں کیا، تاہم ریاستی حکومت کو ممکنہ رعایت سے متعلق 24 گھنٹے کے اندر فیصلہ لینے کا حکم دیا ہے۔مغربی بنگال میں بقرعید سے قبل حکومت نے جاری کیے سخت اصول، کھلی جگہوں پر قربانی ممنوعیہ معاملہ مغربی بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ کے تحت ریاستی حکومت کی جانب سے جاری ہدایات سے متعلق تھا۔ 13 مئی کو جاری عوامی اطلاع میں کہا گیا تھا کہ بیل، سانڈ، گائے، بچھڑے اور بھینس کے ذبیحہ کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا اور اس کے بغیر جانوروں کا ذبیحہ نہیں کیا جا سکے گا۔اس معاملے میں دائر عرضیوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عید الاضحیٰ سے قبل جاری ضابطوں میں قانون کی دفعہ 12 کے تحت رعایت نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے قربانی سے متعلق مذہبی ذمہ داری کی ادائیگی میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ عرضی گزاروں کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ بہت سے لوگ معاشی وجوہات کی بنیاد پر بڑے جانوروں کی قربانی کو زیادہ عملی متبادل سمجھتے ہیں۔مغربی بنگال میں جن لوگوں نے قربانی کے لیے گائے پالی تھی وہ اب پچھتا رہے ہیں!عرضی میں یہ بھی دلیل دی گئی کہ عید الاضحیٰ سے قبل بکرے اور بھیڑ جیسے جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے کم آمدنی والے افراد کے لیے قربانی کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر گائے کی قربانی اسلام میں لازمی مذہبی عمل کے زمرے میں نہیں آتی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ قانون کی دفعہ 12 کے تحت ریاستی حکومت رعایت سے متعلق مطالبات پر غور کر سکتی ہے۔عدالتی بنچ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ 27 یا 28 مئی کو متوقع عید الاضحیٰ کے پیش نظر اس معاملے پر فوری غور کیا جائے اور عدالتی حکم کی اطلاع ملنے کے 24 گھنٹے کے اندر فیصلہ لیا جائے۔