عازمین حج کے لیے جامع ہدایات جاری

Wait 5 sec.

سعودی وزارت حج و عمرہ نے عازمین کو کسی بھی پریشانی سے بچنے اور میسر سہولیات سے استفادہ کرنے کے لیے جامع حج گائیڈ جاری کی ہیں۔عازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ حج کے بنیادی مناسک کا آغاز 8 ذوالحجہ سے ہو گا جس میں حج کا پہلا پڑاؤ منیٰ کے میدان میں ہو گا جہاں وہ ظہر سے لے کر اگلے دن فجر تک کی نمازیں قصر کر کے ادا کریں گے اور رات وہیں قیام کریں گے۔اگلے روز 9 ذوالحجہ کو فجر کی نماز کے بعد تمام عازمین یومِ عرفہ یعنی وقوف عرفہ جو کہ حج کا سب سے اہم رکن ہے، کے لیے روانہ ہوں گے جہاں خطبہ حج دیا جائے۔حجاج کرام نو ذوالحج کو خطبہ حج سننے کے بعد ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کریں گے اور غروب آفتاب تک میدان عرفات میں وقوف کریں گے۔خطبہ حج 35 زبانوں کے ترجمے کے ساتھ نشر کیا جائے گااذان مغرب کے بعد حجاج کرام میدان عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں گے، مزدلفہ میں حجاج کرام مغرب اور عشا کی نمازیں ملا کر پڑھیں گے اور رمی کیلئے کنکریاں جمع کریں گے۔حجاج کرام 10 ذوالحج کو وقوف مزدلفہ کے بعد رمی کیلئے جمرات روانہ ہوں گے. جمرات پر شیطان کوکنکریاں مارنے کے بعد حجاج قربانی کریں گے اور اس کے ساتھ ہی عازمین کا فریضہ حج مکمل ہو جائے گا۔جس کے بعد عازمین اپنا سر منڈوا کر احرام کھول کر عام لباس پہنیں گے جب کہ خواتین اپنے چوتھائی سر کے بالوں کا انگلی کی ایک پور برابر بال کٹوائیں گی۔جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ نسک کارڈ، پاکستانی حج کارڈ، اور رِسٹ بینڈ ہر وقت اپنے پاس رکھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ شناخت اور سفری سہولت کے لیے اہم دستاویزات ہیں۔عازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے چھتری، سن گلاسز اور پانی کی بوتل ساتھ رکھیں، جبکہ روزمرہ استعمال کی ضروری ادویات بھی اپنے بیگ میں شامل کریں۔مزید کہا گیا ہے کہ آرام دہ قیام اور سفر کے لیے چٹائی، ایک عدد سوت (احرام/لباس)، موبائل چارجر اور پاور بینک بھی ساتھ رکھنا مفید ہوگا۔حج انتظامیہ نے تاکید کی ہے کہ عازمین صرف ضروری سامان ساتھ رکھیں اور غیر ضروری اشیا سے اجتناب کریں تاکہ سفر میں آسانی رہے اور عبادات پوری توجہ اور سکون کے ساتھ ادا کی جا سکیں۔