ریاض (15 مئی 2026): مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ سے نکالنے اور خطے میں پائیدار استحکام کیلیے سعودی عرب نے دور رس سفارتی تجویز پیش کر دی۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ ریاض نے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان ایک جامع عدم جارحیت معاہدے کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد ممکنہ مستقبل کی جنگوں کے خطرات کو مستقل طور پر ٹالنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی قیادت سمجھتی ہے خلیجی ممالک اور تہران کے درمیان اسی طرح کا کوئی فریم ورک خطےکے مفاد میں ہے۔خلیجی ریاستوں کو تشویش ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ موجودہ کشیدگی کسی بڑے ٹکراؤ پر ختم ہوئی تو اس کے نتیجے میں ایک ایسا زخمی مگر مزید سخت گیر ایران ابھر سکتا ہے جو پڑوسیوں کیلیے زیادہ خطرناک ثابت ہوگا۔کئی یورپی ممالک نے سعودی عرب کی تجویز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی ہے اور دیگر خلیجی ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس کی حمایت کریں۔سعودی عرب مجوزہ معاہدے کیلیے 1970 کی دہائی کے مشہور ہیلسنکی عمل کو رول ماڈل بنانا چاہتا ہے۔ سرد جنگ کے شدید ترین دور میں ہیلسنکی عمل نے بین الاقوامی طاقتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا۔