نئی دہلی : بھارت نے پہلی بار عوام کیلئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تین روپے کا اضافہ کر دیا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 97 روپے 77 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی 90 روپے 67 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث عالمی سطح پر سپلائی چین متاثر ہونے کے بعد، بھارتی حکومت نے پہلی بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔بھارتی حکام نے نتایا کہ یہ فیصلہ ٹیکسوں میں اضافے کے لیے نہیں، بلکہ ملکی آئل ریفائنریز اور تیل کمپنیوں کو بڑے مالی نقصان سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے، یہ کمپنیاں گزشتہ ڈھائی ماہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے شدید اتار چڑھاؤ کا بوجھ خود برداشت کر رہی تھیں۔یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے آغاز پر مارچ میں بھارتی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر 10، 10 روپے ٹیکس کم کیا تھا۔اس وقت بھارت پیٹرول پر 11 روپے 90 پیسے اور ڈیزل پر 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر کے حساب سے مختلف ٹیکسز چارج کر رہا ہے۔3 روپے کے حالیہ اضافے کے بعد بھارت میں پیٹرول کی نئی قیمت 97 روپے 77 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی 90 روپے 67 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔عالمی مارکیٹ کے اثرات جہاں بھارت پر پڑے ہیں، وہی پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔ تاہم، امریکی ڈالر کے موجودہ شرحِ مبادلہ کے لحاظ سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں تیل کی قیمتیں بھارت سے اب بھی کافی زیادہ ہیں۔پاکستان میں اس وقت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 1.40 سے 1.45 ڈالر فی لیٹر کے درمیان ہیں، اس کے برعکس، بھارت میں قیمتیں بڑھنے کے باوجود پیٹرول 1.05 ڈالر اور ڈیزل 0.97 ڈالر فی لیٹر پر دستیاب ہے، جو پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔