کیا کبھی ہم زمین کے باہر ترقی یافتہ خلائی مخلوق دریافت کرسکیں گے؟ ڈریک ایکویشن (ڈریک مساوات) ایک ایسا سائنسی فارمولا ہے جو اندازہ لگاتا ہے کہ ہماری کہکشاں میں کتنی ذہین تہذیبیں موجود ہوسکتی ہیں۔جدید دوربینیں جیسے جیمز ویب یہ اشارہ دے رہی ہیں کہ قابلِ رہائش سیارے عام ہیں، اگر ان میں سے کچھ پر زندگی کے آثار موجود ہوئے تو ہم جلد ہی اس کے آثار دریافت کرسکتے ہیں۔ایک سوال گزشتہ کئی صدیوں سے سائنس دانوں اور عام لوگوں کے لیے تجسس کا باعث بنا ہوا ہے وہ یہ کہ کیا انسان کائنات میں اکیلا ہے؟ اس کا جواب غالباً یہی ہے کہ جی ہاں!! جدید سائنسی تحقیق کے باوجود اب تک زمین سے باہر کسی خلائی مخلوق کا کوئی قابلِ اعتماد یا قابل ذکر ثبوت سامنے نہیں آسکا۔سائنسی ماہرین کے مطابق انسان کئی دہائیوں سے خلا میں سگنلز اور ایسے شواہد تلاش کرتا آرہا ہے جو کسی دوسری ذہین تہذیب کی موجودگی ثابت کرسکیں تاہم آج تک کوئی واضح اور ٹھوس پیغام موصول نہیں ہوا۔اسی سوال کا اندازہ لگانے کے لیے 1961 میں امریکی ماہر فلکیات فرینک ڈریک نے ایک مشہور فارمولہ پیش کیا جسے ڈریک ایکویشن (ڈریک مساوات) کہا جاتا ہے۔یہ مساوات مختلف عوامل کی بنیاد پر اندازہ لگاتی ہے کہ ہماری کہکشاں میں کتنی ذہین خلائی تہذیبیں موجود ہو سکتی ہیں۔اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہر سال کتنے نئے ستارے بنتے ہیں، ان میں سے کتنے ستاروں کے گرد سیارے موجود ہیں اور کتنے سیارے ایسے ہیں جہاں زندگی کے امکانات پائے جاتے ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق حیران کن طور پر کائنات میں سیاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے جبکہ اندازہ ہے کہ تقریباً 20 فیصد ستاروں کے گرد کم از کم ایک ایسا سیارہ موجود ہوتا ہے جو ’قابلِ رہائش زون‘ میں آتا ہے، یعنی نہ بہت زیادہ گرم اور نہ ہی حد سے زیادہ سرد۔تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ان سیاروں پر زندگی کتنی بار وجود میں آتی ہے اور ان میں سے کتنی تہذیبیں ذہانت کی اس سطح تک پہنچتی ہیں جہاں وہ خلا میں سگنلز بھیج سکیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سوالات کے درست جواب کے لیے ابھی تک ہمارے پاس ٹھوس معلومات موجود نہیں، اسی لیے ڈریک مساوات کو حتمی جواب کے بجائے ایک “فکری تجربہ” سمجھا جاتا ہے۔مختلف اعداد و شمار شامل کرنے سے نتائج بھی بدل جاتے ہیں، جو کبھی ہزاروں خلائی تہذیبوں اور کبھی صرف ایک تہذیب یعنی انسانیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔