واشنگٹن (21 مئی 2026): امریکی انٹیلی جنس ادارے جائزہ لے رہے ہیں کہ فوجی کارروائی کی صورت میں کیوبا کا ردِعمل کیا ہو سکتا ہے۔سی بی ایس نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے اس بات کا بھی تجزیہ کر رہے ہیں کہ اگر کسی قسم کی امریکی فوجی کارروائی کی گئی تو ہوانا اور وہاں کی حکومت کس نوعیت کا ردعمل دے سکتی ہے۔اس سے قبل امریکی وفاقی عدالت کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو پر امریکی شہریوں کے قتل کے الزم میں فرد جرم عائد کر چکی ہے۔اس ماہ کے آغاز میں، جب امریکی انٹیلی جنس ادارے پابندیوں کا شکار روسی پرچم بردار آئل ٹینکر ’یونیورسل‘ کی نگرانی کر رہے تھے، جو کیوبا جا رہا تھا، تو پینٹاگون اور ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے تجزیہ کاروں نے اس بات کا جائزہ لینا شروع کیا کہ اگر امریکا کیریبین ملک پر حملہ کرے تو کیوبا کا ردِعمل کیا ہوگا۔دو امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کے لیے فوجی آپشنز تیار کرنے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے، دونوں حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کیوں کہ انھیں عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ایران جنگ پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ 2 دھڑوں میں تقسیم، اسرائیلی اخبار کا دعویٰاس قسم کے انٹیلی جنس تجزیے نہ صرف کسی امریکی کارروائی کے فوری نتائج بلکہ اس کے بعد ممکنہ ردِعمل کے سلسلے کا بھی اندازہ لگاتے ہیں۔ امریکی فوجی منصوبہ ساز اکثر ایسی معلومات کو صدر کے لیے مختلف آپشنز تیار کرنے میں شامل کرتے ہیں۔بدھ کو صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ آیا سابق کیوبن رہنما راؤل کاسترو پر فردِ جرم عائد ہونے کے بعد کیوبا کے حوالے سے مزید کشیدگی بڑھے گی؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا ’’نہیں، کشیدگی نہیں بڑھے گی۔ میرے خیال میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘امریکی انٹیلی جنس اداروں کی ممکنہ ردِعمل سے متعلق رپورٹ ابھی واضح نہیں، تاہم اس پر کام جاری ہے، جب کہ ہوانا اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سال ٹرمپ انتظامیہ نے مزید پابندیاں عائد کیں، کیوبا کی فوجی اور انٹیلی جنس شخصیات کو نشانہ بنایا، اور کیوبا کی ایندھن و شپنگ رسائی محدود کرنے کی کوششیں تیز کیں۔سی بی ایس نیوز نے تصدیق کی ہے کہ کیوبا نے حملہ آور ڈرون حاصل کر لیے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ ڈرون کس نے فراہم کیے یا کیسے حاصل کیے گئے۔ اتوار کو ایکسیوس نے، جس نے سب سے پہلے اس خبر کو رپورٹ کیا، کہا تھا کہ ہوانا نے 300 سے زائد فوجی ڈرون حاصل کیے ہیں اور امریکا کے ساتھ جنگ کی صورت میں گوانتانامو بے میں امریکی فوجی تنصیب پر حملے کے منصوبوں پر غور کیا ہے۔کیوبن صدر میگوئل دیاز کینیل نے اس بات کی تردید کی کہ ہوانا امریکا کے لیے کوئی فوجی خطرہ ہے، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خوں ریزی ہوگی۔گزشتہ ہفتے سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے کیوبا کا دورہ کیا اور انٹیلی جنس حکام اور سابق رہنما راؤل کاسترو کے پوتے راؤل گیلرمو ’راؤلیتو‘ روڈریگیز کاسترو سے ملاقات کی۔ ایک سی آئی اے اہلکار کے مطابق ریٹکلف نے کیوبن حکام کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ تعاون کا حقیقی موقع فراہم کر رہی ہے اور کیوبا کی کم زور معیشت کو مستحکم کرنے کا موقع دینا چاہتی ہے، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ یہ موقع اس شرط سے مشروط ہے کہ کیوبا روس، چین اور ایران جیسے امریکا کے مخالف ممالک سے تعلقات ختم کرے۔ ریٹکلف نے یہ بھی کہا کہ یہ پیش کش ہمیشہ کے لیے کھلی نہیں رہے گی۔اس سال کے آغاز میں جاری ایک صدارتی حکم نامے میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ کیوبا روس کی سب سے بڑی بیرونِ ملک نگرانی پوسٹ کی میزبانی کر رہا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے بھی چین پر الزام لگایا تھا کہ اس نے امریکی ساحل سے صرف 90 میل دور کمیونسٹ جزیرے پر جاسوسی مراکز قائم کیے ہیں۔ایک امریکی عہدے دار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ریٹکلف کی ملاقات یہ جانچنے کے لیے تھی کہ آیا کیوبن حکومت کے اندر وہ عناصر، جو سمجھتے ہیں کہ ملک کو نئی سمت کی ضرورت ہے، سخت گیر حلقوں پر غالب آ سکتے ہیں یا نہیں، جو یہ مانتے ہیں کہ 67 برس تک امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے بعد وہ ٹرمپ کو بھی برداشت کر لیں گے۔ریٹکلف کا دورہ کیوبن حکام اور امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر اہلکاروں کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کے سلسلے کے بعد ہوا۔ اپریل میں ایک وفد ہوانا گیا تھا اور کیوبا کو ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک تک رسائی دینے کی تجویز دی گئی تھی۔ حال ہی میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے 10 کروڑ ڈالر کی انسانی امداد کی امریکی پیشکش دہرائی، جو مذہبی خیراتی اداروں کے ذریعے کیوبا بھیجی جانی تھی۔ روبیو نے پہلے کہا تھا کہ یہ امداد کیوبن حکام کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔جمعے کو سی بی ایس نیوز نے سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا 94 سالہ سابق صدر راؤل کاسترو پر 30 سال قبل دو طیارے مار گرانے کے واقعے میں فردِ جرم عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ بدھ کو فلوریڈا کے وفاقی استغاثہ نے راؤل کاسترو اور پانچ دیگر افراد پر فردِ جرم ظاہر کر دی۔دوسری جانب ’یونیورسل‘ نامی ٹینکر کئی ہفتوں سے بحرِ اوقیانوس میں چکر لگا رہا ہے اور کیوبا سے ایک ہزار میل سے زیادہ فاصلے پر موجود ہے۔ ماضی میں بھی کیوبا جانے والے متعدد جہازوں نے امریکی بحریہ کی جانب سے روکے جانے کے خدشے کے باعث اپنا راستہ بدل لیا تھا۔ تاہم امریکا نے مارچ میں روسی ٹینکر اناتولی کولوڈکن کو خام تیل کی ترسیل کے لیے کیوبا پہنچنے کی اجازت دی تھی۔ اس ہفتے امریکا نے یوراگوئے اور میکسیکو سے امدادی سامان لے جانے والے جہازوں کو بھی رسد پہنچانے کی اجازت دی۔