فریڈم فلوٹیلا کے گرفتار کارکنوں سے بدسلوکی کی ویڈیو وائرل ہونے پر اسرائیل کے خلاف عالمی غم و غصہ شدت اختیار کرگیا، مختلف ممالک میں معافی کے مطالبات بھی زور پکڑگئے۔تفصیلات کے مطابق غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد لے جانے والے "فریڈم فلوٹیلا” کے گرفتار عالمی کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی فوج اور حکام کی مبینہ بدسلوکی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔فریڈم فلوٹیلا کے گرفتار عالمی کارکنوں سے بدسلوکی کی ویڈیو وائرل ، اسرائیل کے خلاف عالمی غم و غصہ شدت اختیار کرگیا،اس غیر انسانی رویے پر عالمی سطح پر اسرائیل سے فوری معافی مانگنے کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں جبکہ دنیا کے متعدد اہم ممالک نے احتجاجاً اسرائیلی سفیروں کو وزراتِ خارجہ طلب کر لیا ہے۔ویڈیو سامنے آنے کے بعد دنیا کے کئی اہم دارالحکومتوں میں اسرائیلی سفارتکاروں کی بازپرس کی گئی ، کینیڈا، فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز (ہالینڈ)، بیلجیئم، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اپنے ہاں تعینات اسرائیلی سفیروں کو طلب کر کے کڑی سرزنش کی ہے۔جرمنی، برطانیہ، اسپین، پولینڈ، یونان، آئرلینڈ، جنوبی کوریا، قطر اور ترکیے کی حکومتوں نے بھی باضابطہ بیانات جاری کرتے ہوئے اسرائیلی فورسز کے اقدامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر اپنے ردِعمل میں لکھا "اسرائیلی حکام کا یہ رویہ انسانی احترام اور وقار کے بنیادی عالمی معیارات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاس نے امدادی کارکنوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ جانے والے نہتے امدادی کارکنوں کو ہتھکڑیاں لگا کر زمین پر (بیٹھنے پر مجبور کرنا) انتہائی توہین آمیز اور ناقابلِ قبول ہے۔اسرائیل کے اس رویے پر اس کے سب سے قریبی اتحادی امریکہ کے اندر سے بھی شدید تنقید سامنے آئی ہے۔امریکی سینیٹر وان ہولن نے ‘ایکس’ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا "جب اسرائیلی وزیر کا کیمروں کے سامنے یہ (تکبرانہ) سلوک ہے، تو اس سے آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے نظر بند فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہولناک سلوک ہوتا ہو گا؟”امریکی سینیٹر جیف مرکلے نے بھی اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمر بن گویر کے اس رویے کو گھناؤنا اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ خطے میں مزید سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔عالمی مبصرین کے مطابق امدادی مشن پر آئے پرامن بین الاقوامی شہریوں کے ساتھ اس ہتک آمیز سلوک نے انسانی حقوق کے محاذ پر اسرائیل کے موقف کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔