واشنگٹن (21 مئی 2026): امریکا ایران امن معاہدے کی نئی تجاویز پر نیتن یاہو پر گھبراہٹ طاری ہو گئی ہے، صدر ٹرمپ سے فون پر گفتگو کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم شدید پریشانی کا شکار ہیں۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے منگل کو ایران کے ساتھ معاہدے کی نئی کوشش پر ایک ایسی ٹیلیفونک گفتگو کی جو سخت بدمزہ رہی، ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو شدید پریشانی کا شکار تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے تند و تیز لہجے میں گفتگو کی تھی، امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے درمیان یہ گفتگو گزشتہ رات ہوئی، اسرائیلی و زیرِ اعظم کے دفتر اور وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ذرائع بتا رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کر کے اسرائیلی و زیر اعظم آگ بگولا ہو گئے تھے۔ذرائع کے مطابق قطر اور پاکستان نے دیگر علاقائی ثالث ممالک کی مشاورت سے ایک نیا امن مسودہ تیار کیا ہے، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کا حکم دینے یا معاہدہ کرنے کے درمیان تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔دوسری طرف نیتن یاہو مذاکرات کے حوالے سے انتہائی شکوک رکھتے ہیں اور جنگ دوبارہ شروع کر کے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور اور اہم تنصیبات تباہ کر کے ایرانی حکومت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ جب کہ ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کے خیال میں معاہدہ ممکن ہے، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو وہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔امریکا کی ایران کو 25 ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی اور 3.67 فی صد یورینیم افزودگی کی پیشکشٹرمپ نے بدھ کو کوسٹ گارڈ اکیڈمی میں کہا ’’صرف سوال یہ ہے کہ کیا ہم جا کر اس معاملے کو مکمل طور پر ختم کریں گے یا وہ کسی دستاویز پر دستخط کریں گے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو ’’ایران کے معاملے میں وہی کریں گے جو میں چاہوں گا‘‘ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں کے تعلقات اچھے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران کے معاملے پر پہلے بھی وقتی اختلافات رہے ہیں، لیکن جنگ کے دوران دونوں قریبی رابطے میں رہے۔ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ تازہ ترین تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اس نے ابھی تک کسی لچک کا واضح اشارہ نہیں دیا۔ تینوں ذرائع کے مطابق پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر گزشتہ کئی دنوں سے مجوزہ مسودے کو بہتر بنانے اور اختلافات کم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔دو عرب حکام اور ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق قطر نے حال ہی میں امریکا اور ایران کو ایک نیا مسودہ پیش کیا۔ تاہم چوتھے ذریعے نے کہا کہ یہ الگ قطری مسودہ نہیں بلکہ قطر سابق پاکستانی تجویز میں موجود اختلافات ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک عرب عہدیدار نے بتایا کہ قطری حکام نے اس ہفتے کے آغاز میں تہران کا دورہ کیا جہاں انھوں نے ایرانی حکام سے تازہ ترین مسودے پر بات چیت کی۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ مذاکرات ’’ایران کی 14 نکاتی تجویز‘‘ کی بنیاد پر جاری ہیں، جب کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ ثالثی میں مدد کے لیے تہران میں موجود ہیں۔ ایک ہفتے سے کم عرصے میں وزیرِ داخلہ کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ ایک عرب عہدیدار کے مطابق اس نئی کوشش کا مقصد ایران سے اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے زیادہ واضح وعدے لینا اور امریکا سے منجمد ایرانی فنڈز مرحلہ وار جاری کرنے کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنا ہے۔تینوں ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی واضح نہیں کہ ایران نئے مسودے سے اتفاق کرے گا یا اپنے مؤقف میں کوئی بڑی تبدیلی لائے گا۔ ایک قطری سفارت کار نے کہا ’’جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا، قطر پاکستانی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور خطے اور اس کے عوام کے مفاد میں کشیدگی کم کرنے کی مسلسل وکالت کرتا رہا ہے۔‘‘امریکی ذریعے کے مطابق منگل کی شام ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان طویل اور ’’مشکل‘‘ گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ثالث ممالک ایک ’’لیٹر آف انٹینٹ‘‘ پر کام کر رہے ہیں، جس پر امریکا اور ایران دستخط کریں گے تاکہ جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہو اور 30 روزہ مذاکراتی مرحلہ شروع کیا جا سکے۔ اس عرصے میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کھولنے جیسے معاملات پر بات چیت ہوگی۔دو اسرائیلی ذرائع نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ حکمتِ عملی پر اختلاف پایا گیا، جب کہ امریکی ذریعے کے مطابق ’’کال کے بعد بی بی (نیتن یاہو) شدید پریشان تھے۔‘‘ ذریعے نے بتایا کہ واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر نے امریکی قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ نیتن یاہو اس گفتگو پر فکرمند ہیں۔ تاہم اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’’سفیر نجی گفتگوؤں پر تبصرہ نہیں کرتے۔‘‘دو ذرائع نے نشان دہی کی کہ ماضی میں بھی مذاکرات کے مختلف مراحل پر نیتن یاہو شدید تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، چاہے بعد میں معاہدے نہ ہو سکے ہوں۔ ایک ذریعے نے کہا ’’بی بی ہمیشہ فکرمند رہتے ہیں۔‘‘ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے امریکا کو ایرانی جہازوں کے خلاف اپنی ’’قزاقی‘‘ بند کرنا ہو گی اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کرنا ہو گی، جب کہ اسرائیل کو لبنان میں جنگ ختم کرنا ہوگی۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہمیں درست جواب نہ ملا تو جنگ بہت جلد دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، تاہم وہ مذاکرات کو مزید چند دن دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول ’’اگر چند دن انتظار کر کے میں لوگوں کو مرنے سے بچا سکتا ہوں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔‘‘واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق نیتن یاہو آئندہ چند ہفتوں میں ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جانا چاہتے ہیں۔