اتر پردیش میں 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں سے مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ!

Wait 5 sec.

اترپردیش میں بدھ کو آنے والے تباہ کن طوفان اور ژالہ باری نے تباہی مچا دی ہے۔ طوفان اور ژالہ باری سے ایک دن میں ہندوستان کے کسی کونے میں اتنا زبردست جانی نقصان ہوا نظر نہیں  آتا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں اور آسمانی بجلی نے ریاست کے کئی اضلاع میں 117 افراد کی جان لے لی ہے۔ اس تباہ کن آفت نے حالیہ تاریخ میں کئی ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ 13 مئی کو اتر پردیش میں آنے والے شدید طوفان، آندھی اور ژالہ باری نے درجنوں اضلاع میں جان و مال کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ہندوستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق، اس آفت میں تقریباً 117 افراد ہلاک اور 79 زخمی ہوئے ہیں۔ شمال مغربی اتر پردیش میں بدھ کو دوپہر سے پہلے گرج چمک کے سیلس تیار ہوئے، جو جنوب مشرق کی طرف بڑھتے ہی شدت اختیار کر گئے۔بریلی اور پریاگ راج میں ہوا کی رفتار 130 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی، جب کہ اناؤ اور وارانسی میں شدید ژالہ باری ہوئی۔ زیادہ تر اموات تیز ہواؤں کے باعث مکانات گرنے سے ہوئیں۔ریاستی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق، کل 117 اموات میں سے 113 تیز ہواؤں کی وجہ سے ہوئیں، اور چار آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہوئے۔ طوفان کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریاست بھر میں 330 مکانات کو نقصان پہنچا اور 177 جانور ہلاک ہو گئے۔ بڑے درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، دیواریں گر گئیں اور عارضی اور شیڈ مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ماہرین موسمیات طوفان کی شدت کی وجہ ماحولیاتی حالات کے خطرناک سنگم کو قرار دیتے ہیں۔ خطے میں پہلے سے موجود شدید گرمی خلیج بنگال سے آنے والی نمی سے ٹکرا گئی۔ مشرقی اور مغربی ہواؤں کا تصادم انتہائی ماحولیاتی عدم استحکام کا باعث بنا۔ مزید برآں، ہریانہ اور شمال مغربی اتر پردیش کے اوپر ایک فعال اوپری ہوا کے چکروات نے طوفان کو مزید تقویت بخشی، ہواؤں کو سائیکلون کی سطح کی شدت کی طرف دھکیل دیا۔