مانسون کے 26 اپریل تک کیرالہ پہنچنے کا امکان، جنوب میں سیلاب کا خطرہ، شمالی اور وسطی ہندوستان میں شدید خشک سالی کا اندیشہ

Wait 5 sec.

آئندہ مانسون کے موسم میں شمالی اور وسطی ہندوستان سمیت ملک کے تقریباً نصف حصے میں شدید خشک سالی کا اندیشہ ہے۔ جون سے ستمبر کے درمیان مانسون کی بارش کے بھی معمول سے کم رہنے کا امکان ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بحر الکاہل میں بن رہا طاقتور ال نینو ہے۔ اس وجہ سے جنوبی ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں شدید سیلاب کا بھی خطرہ ہے۔ زراعت پسند ہندوستان کے لیے مانسون کی یہ صورت حال بہت خوفناک ہے، جس کا بہت زیادہ انحصار مانسون کی بارش پر ہے۔وقت سے پہلے آسکتا ہے مانسون، 25 اور 27 مئی کے درمیان کیرالہ پہنچنے کی توقع، 5 ریاستوں میں تیز آندھی اور بارش کا الرٹہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق ال نینو تیزی سے اپنا دائرہ بڑھا رپا ہے۔ ہندوستان کے لیے ال نینو ہمیشہ سے ہی خراب رہا ہے۔ اس بار مضبوط ال نینو تیار ہو رہا ہے، جس کے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ مضبوط ال نینو جنوب مغربی مانسون کی ہواؤں کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کے بیشتر حصوں میں بارش کم ہوتی ہے اور خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ اس بار شمال اور وسطی ہندوستان میں کچھ ایسی ہی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔دوسری طرف تمل ناڈو اور آندھرا پردیش جیسی ساحلی ریاستوں کو تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق جنوب مغربی مانسون اس بار معمول کی تاریخ سے پہلے یعنی 26 مئی کے آس پاس کیرالہ کے ساحل پردستک دے سکتا ہے۔ ہفتے کے روز یہ جنوبی خلیج بنگال، بحیرہ انڈمان اور جزائر انڈمان۔نکوبار کے کچھ حصوں میں مزید آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے آگے بڑھنے لیے حالات سازگار ہیں۔اترپردیش میں آندھی اور بارش نے مچائی تباہی، مختلف اضلاع میں 96 افراد کی موت، متعدد زخمی️ Southwest Monsoon Update 2026 ️The Southwest Monsoon has officially advanced into parts of the southeast Arabian Sea, southwest & southeast Bay of Bengal, many parts of the Andaman Sea, entire Nicobar Islands and parts of the Andaman Islands including Sri Vijaya Puram on 16… pic.twitter.com/zZI7ZEW5G1— India Meteorological Department (@Indiametdept) May 16, 2026طاقتور ال نینو کا شمالی اور وسطی ہندوستان پر سب سے زیادہ اثر پڑنے کا اندیشہ ہے۔ مغربی ہندوستان کے کچھ حصے بھی متاثر ہوسکتے ہیں، خاص طور پر زراعت ریاستیں جیسے پنجاب، ہریانہ، مغربی اتر پردیش اور راجستھان۔ دہلی-این سی آر کو گرمی اور خشک سالی کے دوہرے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مانسون کی کم بارشیں بڑی فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس سے خوراک کی قیمتوں، بجلی کی فراہمی اور دیہی آمدنی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ہندوستان کی سالانہ بارش کا تقریباً 70 فیصد مانسون سے آتا ہے اور تقریباً نصف آبادی کا انحصار زراعت پر ہے، اس لیے کم بارش والا سال بھی وسیع معاشی اثر ڈال سکتا ہے۔اس خوفناک امکان کے درمیان امید کی کرن انڈین آپریشن ڈپول (آئی او ڈی)  کی شکل میں نظر آرہی ہے۔ موسمیاتی ماڈل کے مطابق مانسون سیزن کے آخری مہینوں میں آئی او ڈی مثبت ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ال نینو کے منفی اثرات کو کسی حد تک کم کر سکتا ہے۔ مانسون کی ہوائیں کچھ زور پکڑ سکتی ہیں، جو ممکنہ طور پر کچھ علاقوں میں بارش کی واپسی کا باعث بن سکتی ہیں۔ہندوستان میں خشک سالی کا بحران، گرم ہوتی آب و ہوا، کم ہوتی بارش اور زیر زمین پانی کے استحصال سے چیلنج میں اضافہآئی ایم ڈی کی پیشن گوئی کے مطابق اس سال مانسون کی بارش طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے صرف 92 فیصد ہونے کا امکان ہے۔ ایل پی اے کی یہ سطح معمول سے کم بارش کے زمرے میں آتی ہے۔ 1971  سے 2020 تک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہندوستان میں اوسط بارش 870 ملی میٹر ہونی چاہیے لیکن اس بار اس سے کم بارش ہونے کا امکان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس سال خشک سالی کے حالات پیدا ہونے کا اندیشہ 35 فیصد ہے جو عام سالوں کے امکان سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔