’آبنائے ہرمز‘ میں کمرشیل جہازوں پر حملہ ناقابل برداشت، ہندوستان کا اقوام متحدہ میں دو ٹوک

Wait 5 sec.

اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مندوب پرواتھنینی ہریش نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے درمیان دنیا کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے توانائی اور کھاد کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کا نقطہ نظر پیش کیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کے ساتھ ساتھ قلیل مدتی اور طویل مدتی دونوں طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل (یو این ای سی او ایس او سی) کے خصوصی اجلاس میں شرکت کی، جو توانائی اور اس کی سپلائی کو بہتر طریقے سے برقرار رکھنے کے لیے کافی اہم ہے۔آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایران کا نیا کنٹرول نظام نافذ، امریکہ کو سخت انتباہپرواتھنینی ہریش نے اس بحران کا مؤثر طریقے سے سامنا کرنے کے لیے فوری اقدامات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعاون کو بھی ضروری قرار دیا۔ ہریش نے آبنائے ہرمز میں سمندری سیکورٹی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے حوالے سے ہندوستان کے خدشات کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’میں نے مغربی ایشیا میں جاری جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے توانائی اور کھاد کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کے موقف کو واضح کیا۔‘‘اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں پرواتھنینی ہریش مزید لکھتے ہیں کہ ’’اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کے ساتھ ساتھ طویل مدتی پائیدار حل اور تمام ممالک کا مل کر کام کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’میں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ تجارتی جہازوں پر حملہ کرنا، ان میں سوار عام شہریوں کو خطرے میں ڈالنا اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو روکنا ناقابل قبول ہے۔ بین الاقوامی قانون کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔‘‘Shared India’s approach to the recent energy and fertiliser crisis in light of the West Asia conflict at the Special Meeting of the @UNECOSOC on Safeguarding energy and supply flows.A combination of short-term and structural measures alongside international cooperation are… pic.twitter.com/eIxKhqRnOV— Parvathaneni Harish (@AmbHarishP) May 16, 2026دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ مجوزہ نظام کو ایران کی قومی خودمختاری کے دائرے میں اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف تجارتی جہازوں اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے فریقین کو ہی اس نظام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ مجوزہ راستہ ’فریڈم پروجیکٹس‘ سے وابستہ آپریٹرز کے لیے بند رہے گا۔ایران نے ہندوستان آ رہے جہاز پر آبنائے ہرمز میں کیا حملہ، 2 ہندوستانیوں کی موت، ہندوستانی وزارت خارجہ کا سخت رد عملابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی قومی خودمختاری کے دائرے میں اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ، آبنائے ہرمز میں طے شدہ راستے پر ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک پیشہ ورانہ نظام تیار کیا ہے۔ اس کا جلد ہی افتتاح کیا جائے گا۔ اس عمل میں صرف تجارتی جہازوں اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے فریقین کو ہی فائدہ ملے گا۔ اس نظام کے تحت فراہم کی جانے والی خصوصی خدمات کے لیے ضروری فیس لی جائے گی۔ یہ راستہ ’فریڈم پروجیکٹ‘ کے آپریٹرز کے لیے بند رہے گا۔