سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھ کر ہوئی 38، کابینہ کے فیصلے کو ملی صدر جمہوریہ کی منظوری

Wait 5 sec.

مرکزی حکومت نے ملک کے عدالتی نظام کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت سپریم کورٹ میں ججوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد میں اضافہ کرنے جا رہی ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق مرکزی حکومت کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ اب ملک کی سب سے بڑی عدالت میں چیف جسٹس کے علاوہ ججوں کی تعداد 33 سے بڑھا کر 37 کر دی گئی ہے۔ یعنی مجموعی طور پر اب سپریم کورٹ میں 38 جج ہوں گے۔کلکتہ ہائی کورٹ کے لیے 9 نئے ججوں کی سفارش، سپریم کورٹ کالجیم کا اہم فیصلہمرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے اتوار (17 مئی) کو کہا کہ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 34 سے بڑھا کر 38 کرنے کے مرکزی کابینہ کے فیصلے کو منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ’’صدر جمہوریہ نے ’سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی آرڈیننس، 2026‘ نافذ کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 33 سے بڑھا کر 37 (چیف جسٹس آف انڈیا کے علاوہ) کرنے کی منظوری دی ہے، جس کے ذریعے ’سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ایکٹ، 1956‘ میں مزید ترمیم کی گئی ہے۔‘‘The President is pleased to increase the Judge strength of the Supreme Court from 33 to 37 Judges (Excluding the Chief Justice of India) by promulgating The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Ordinance, 2026, which has further amended the “Supreme Court (Number of Judges)…— Arjun Ram Meghwal (@arjunrammeghwal) May 16, 2026اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے 5 مئی کو پارلیمنٹ میں سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل، 2026 پیش کرنے کی تجویز کو منظوری دی تھی۔ اس کا مقصد سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ایکٹ، 1956 میں ترمیم کرکے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ججوں کی تعداد کو موجودہ 33 سے بڑھا کر 37 کرنا ہے (چیف جسٹس آف انڈیا کے علاوہ)۔حکومت کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ میں مسلسل بڑھتے ہوئے مقدمات اور عدالتی کام کے بوجھ کو دیکھتے ہوئے ججوں کی تعداد بڑھانا بے حد ضروری ہو گیا تھا۔ قانونی برادری اور سینئر وکلاء کی جانب سے طویل عرصے سے یہ مطالبہ اٹھایا جا رہا تھا تاکہ مقدمات کو وقت پر نمٹانے میں مدد مل سکے۔ آخری بار 2019 میں یہ تعداد بڑھائی گئی تھی جب چیف جسٹس کے علاوہ ججوں کی تعداد کو 30 سے بڑھا کر 33 کر دیا گیا تھا۔حکومت کے اس فیصلے کا قانونی برادری نے استقبال کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سینئر ایڈوکیٹ وکاس سنگھ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دائر ہونے والے مقدمات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں ججوں کی تعداد بڑھانا وقت کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ججوں کی کارکردگی اور مقدمات کو نمٹانے کی شرح قابل تعریف رہی ہے، لیکن مقدمات کی بھاری تعداد کے باعث اضافی جج ضروری ہو گئے تھے۔ججوں کی خالی آسامیوں پر تقرری، تعداد میں اضافہ ضروری: چیف جسٹس رمنادہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر اور سینئر ایڈوکیٹ سچن پوری نے بھی سپریم کورٹ میں جج کے اضافے کو ایک مثبت اور ضروری قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی تعداد بڑھانا وقت کا تقاضا ہے اور اس سے زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قدم سے مؤکلوں کے ساتھ ساتھ قانونی برادری کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ سُمت گہلوت نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ صرف ججوں کی تعداد بڑھانے سے زیر التوا مقدمات کا مسئلہ پوری طرح ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں تقریباً 95 ہزار مقدمات زیر التوا ہیں، ایسے میں عدالتی اصلاحات، بہتر کیس مینجمنٹ اور تکنیکی بہتری کی بھی ضرورت ہے۔