آندھرا پردیش: تیسرے بچے پر 30 ہزار اور چوتھے بچے پر ملیں گے 40 ہزار روپے، آبادی بڑھانے کے لیے وزیر اعلیٰ کا اعلان

Wait 5 sec.

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندربابو نائیڈو نے ریاست میں گھٹتی آبادی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ایک بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ لیا ہے۔ سری کاکولم ضلع کے نرساں پیٹا میں ایک پروگرام سے خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ نائیڈو نے تیسرے بچے کی پیدائش پر 30,000 روپے اور چوتھے بچے کی پیدائش پر 40,000 روپے دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس منصوبے کو منظوری دے دی ہے اور اگلے ایک ماہ میں اس کی مکمل تفصیلات جاری کی جائیں گی۔وزیر اعلیٰ چندربابو نائیڈو نے ’سورن آندھرا-سوچھ آندھرا‘ پروگرام کے دوران کہا کہ ’’میں نے ایک نیا فیصلہ لیا ہے۔ تیسرے بچے کی پیدائش کے فوراً بعد 30,000 روپے اور چوتھے بچے کے لیے 40,000 روپے دیے جائیں گے۔ کیا یہ اچھا فیصلہ نہیں ہے؟‘‘ اگرچہ چندربابو پہلے آبادی پر قابو پانے کی بات کرتے رہے ہیں، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ وقت بدل گیا ہے اور سماج کو شرح پیدائش بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔دراصل وزیر اعلیٰ چندربابو نائیڈو کا یہ تازہ اعلان دوسرے بچے کی پیدائش پر 25,000 روپے کی ترغیبی رقم دینے کی پہلے والی تجویز کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل 5 مارچ کو انہوں نے اسمبلی کو بتایا تھا کہ ریاستی حکومت دوسرے بچے والے جوڑوں کو 25,000 روپے کی ترغیبی رقم دینے پر غور کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے کہا کہ آج کل کئی جوڑے اپنی آمدنی بڑھنے کے بعد صرف ایک بچہ ہی رکھنا پسند کر رہے ہیں۔ وہیں کچھ خاندان دوسرے بچے کے بارے میں تبھی سوچتے ہیں جب پہلا بچہ لڑکا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ریاست کی آبادی میں اضافے کی شرح مسلسل کم ہو رہی ہے۔ انھوں نے 2.1 کے ری پلیسمنٹ لیول ٹوٹل فرٹیلٹی ریٹ (ٹی ایف آر) کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بعد میں وزیر صحت ستیہ کمار یادو نے بتایا کہ حکومت نے تیسرے اور اس سے زیادہ بچوں والے خاندانوں کو بھی یہ فائدہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے کہا کہ کسی بھی سماج کی آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے کل شرح افزائش یعنی ٹی ایف آر کا 2.1 ہونا ضروری مانا جاتا ہے۔ اگر یہ شرح اس سے نیچے چلی جاتی ہے تو مستقبل میں معمر آبادی بڑھنے لگتی ہے اور کام کرنے والی نوجوان آبادی کم ہو جاتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں گھٹتی آبادی اور بڑھتی معمر آبادی اقتصادی ترقی کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وقت رہتے اقدامات نہ کیے گئے تو ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں بھی ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔