تہران (16 مئی 2026): سابق سربراہ پاسداران انقلاب جنرل محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نے امریکا کو نئے ورلڈ آرڈر میں غیر اہم بنا دیا ہے۔محسن رضائی نے ایکس پر ٹویٹ میں کہا نئے ورلڈ آرڈر کی تشکیل میں امریکا کو مرکزیت حاصل نہیں رہی ہے، امریکی صدر طاقت کے بیانیے کے ساتھ نہیں بلکہ ایران کے ساتھ ناکامی کے سائے میں بیجنگ پہنچے ہیں۔سابق سربراہ نے لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پیدا کردہ بحران کے حل کے لیے چین کی مداخلت پر نظریں جمائے ہوئے تھے، اس کا مطلب ہے کہ نیا ورلڈ آرڈر بہت تیزی کے ساتھ اپنے نئے قوانین کو تشکیل دے رہا ہے، اور بدلتی عالمی صورت حال اور نئے ورلڈ آرڈر میں اب امریکا مرکزی حیثیت کھو چکا ہے۔پاکستان کے لیے ایک فیور کے طور پر جنگ بندی کی، ڈونلڈ ٹرمپانھوں نے لکھا ’’ریاستہائے متحدہ کے صدر بیجنگ میں داخل ہوئے اور وہاں سے طاقت کے مقام سے نہیں، بلکہ ایران کے ساتھ جنگ میں ناکامی کے گہرے سائے تلے نکلے؛ جب وہ اپنی خود ساختہ بحران کو قابو میں رکھنے کے لیے چین کے اثر و رسوخ کی طرف دیکھتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ نیا عالمی نظام تیزی سے ایسے اصول قائم کر رہا ہے جو اب امریکا مرکز نہیں رہے!‘‘رئیسجمهور آمریکا نه از موضع قدرت، بلکه در سایه سنگین ناکامی در جنگ با ایران وارد پکن شد و آنجا را ترک کرد؛ وقتی او برای مهار بحران خودساخته به نفوذ چین چشم میدوزد، یعنی نظم جدید به سرعت در حال تنظیم قواعدی است که دیگر آمریکامحور نیست!— محسن رضایی (@ir_rezaee) May 15, 2026