افریقی ممالک میں تیزی سے پھیل رہے ایبولا وائرس کو لے کر ہندوستانی حکومت پوری طرح الرٹ ہو گئی ہے۔ مرکزی وزارت صحت کے تحت آنے والے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) نے کانگو، یوگانڈا اور جنوبی سوڈان جیسے ایبولا سے متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں کے لیے ایئرپورٹ، پورٹ اور تمام انٹری پوائنٹس پر سخت اسکریننگ اور نگرانی کے پروٹوکول نافذ کر دیے ہیں۔ حالانکہ وزارت صحت نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان میں اب تک ایبولا کا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے اور یہ قدم صرف احتیاط کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔ایبولا کی وبا کا تیزی سے پھیلاؤ، عالمی ادارہ صحت نے بجائی خطرے کی گھنٹیوزارت صحت نے ہائی رسک ممالک سے آنے والے یا وہاں سے ٹرانزٹ ہو کر ہندوستان پہنچنے والے مسافروں کے لیے خصوصی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ وزارت کے مطابق اگر کسی مسافر کو بخار، کمزوری، سر درد، پٹھوں میں درد، الٹی، دست، گلے میں خراش یا بغیر کسی وجہ کے خون بہنے جیسی علامات محسوس ہوں تو انہیں امیگریشن چیک سے قبل ایئرپورٹ ہیلتھ آفیسر یا ہیلتھ ڈیسک پر فوراً رپورٹ کرنا ہوگا۔ جن لوگوں کا رابطہ ایبولا سے متاثرہ یا مشتبہ مریض کے خون یا جسمانی رطوبتوں سے ہوا ہو، انہیں بھی اس کی معلومات صحت کے افسران دینی ہوگی۔وزارت صحت نے مسافروں سے صحت کی جانچ اور عوامی صحت کے اقدامات میں تعاون کرنے کی اپیل ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مسافروں کی حفاظت اور بین الاقوامی صحت کے قوانین کی پاسداری کے لیے ضروری ہیں۔ ہوائی اڈوں پر نافذ کیے گئے یہ قوانین کافی حد تک کووڈ-19 وبائی امراض کے دوران اپنائے گئے پروٹوکول جیسے مانے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا تھا۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس کے بعد ہندوستان کی وزارت صحت نے بھی 2 اہم میٹنگ کیں، ایک وزارت کے افسران کے ساتھ اور دوسری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ تاکہ تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔کانگو میں ایبولا کا بحران، 100 سے زائد ہلاکتیں، عالمی صحت ایمرجنسی کا اعلانصحت کے سکریٹی پونیہ سلیلا شریواستو کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی میٹنگ میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہر سطح پر تیار رہنے کی ہدایت دی گئی۔ میٹنگ میں پری-ارائیول اور پوسٹ-ارائیول اسکریننگ، کوارنٹائن پروٹوکول، مریضوں کے علاج، ریفرل سسٹم اور لیب ٹیسٹنگ سے منسلک اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیزر (ایس او پی) شیئر کیا گیا۔ ساتھ ہی نگرانی کے نظام، وقت پر رپورٹنگ اور متعین صحت کی سہولیات کیا تیاری پر خصوصی زور دیا گیا۔واضح رہے کہ ایبولا ایک سنگین اور جان لیوا ’زونوٹک انفیکشن‘ ہے جو متاثرہ شخص کے خون، تھوک، پسینہ، آنسو، الٹی فضلے اور بریسٹ ملک جیسے جسم کے سیال مادوں کے براہ راست رابطے سے پھیلتا ہے۔ متاثرہ سطحوں یا انفیکشن کے سبب ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کے رابطے میں آنے سے بھی یہ بیماری پھیل سکتی ہے۔ اس کی ابتدائی علامات فلو جیسے ہوتے ہیں، لیکن بلا وجہ جسم کے اندر اور باہر خون بہنا اس کی سب سے سنگین علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ بیماری ہیمرجک بخار پیدا کرتی ہے اور اس کی شرح اموات اوسطاً 50 فیصد تک ہو سکتی ہے۔کانگو میں ’ایبولا وائرس‘ کے سبب 80 افراد جاں بحق، ڈبلیو ایچ او نے ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کیقابل ذکر ہے کہ ایبولا انفیکشن کی تصدیق کے لیے آر ٹی-پی سی آر، ایلیسا، اینٹیجن ڈیڈیکشن اور وائرس کلچر جیسے لیب ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ آر ٹی-پی سی آر ٹیسٹ کو سب سے بھروسہ مند مانا جاتا ہے، کیونکہ اس سے وائرس کے جینیاتی مواد (آر این اے) کی پہچان کی جاتی ہے۔ جبکہ ایلیسا ٹیسٹ جسم میں وائرس کے خلاف بنے اینٹی باڈی اور اینٹیجن کا پتہ لگاتا ہے۔ صحت کے ماہرین نے لوگوں کو متاثرہ مریضوں سے دوری بنائے رکھنے، صاف صفائی کا خصوصی خیال رکھنے اور بار بار ہاتھ دھونے کا مشورہ دیا ہے۔ جن لوگوں کا رابطہ متاثرہ شخص سے ہوا ہو، ان کی تقریباً 21 دنوں تک طبی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ انفیکشن کی علامت کو وقت رہتے پہچانا جا سکے۔ صحت کے ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ایبولا سے موت ہونے پر لاش میں بھی انفیکشن پھیل سکتا ہے، اس لیے آخری رسومات کے دوران صحت کے حفاظتی اصولوں پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔