بھوپال: مدھیہ پردیش میں گیہوں خریداری کے دوران کسانوں کے ساتھ سائبر فراڈ کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں سرکاری خریداری کے تحت کسانوں کو ملنے والی رقم ان کے کھاتوں میں پہنچنے کے بجائے مشتبہ کھاتوں میں منتقل ہو گئی۔ اس معاملے پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے متاثرہ کسانوں کو مکمل معاوضہ دینے اور پورے معاملے کی گہری جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔کمل ناتھ نے ایک بیان میں کہا کہ ریاست میں کسانوں کے ساتھ ہر سطح پر ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسان سمان ندھی یوجنا سے بھی بڑی تعداد میں کسان باہر ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے رپورٹ سامنے آئی کہ تین لاکھ سے زیادہ کسانوں کے نام کسان سمان ندھی یوجنا سے ہٹا دیے گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب گیہوں خریداری کی ادائیگی کسانوں کے کھاتوں میں پہنچنے کے بجائے دوسرے کھاتوں میں منتقل ہو گئی، جس سے بڑی تعداد میں کسان متاثر ہوئے ہیں۔مدھیہ پردیش میں کسانوں کے مسائل پر کانگریس کا ’سڑک ستیہ گرہ‘، ممبئی-آگرہ قومی شاہراہ پر چکہ جامانہوں نے کہا کہ حکومت کسان سمان ندھی یوجنا کا مسلسل ذکر کرتی ہے، لیکن اعداد و شمار الگ تصویر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مالی سال 2024-25 میں 86.49 لاکھ کسان اس یوجنا سے فائدہ حاصل کر رہے تھے، جبکہ 2025-26 میں یہ تعداد کم ہو کر 83.01 لاکھ رہ گئی۔ اس طرح تین لاکھ سے زیادہ کسانوں کو یوجنا سے باہر کر دیا گیا۔کمل ناتھ نے کہا کہ 80 ہزار سے زیادہ کسانوں کی ’ای-کے وائی سی‘ کارروائی ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی ہے، جبکہ 1.87 لاکھ سے زیادہ کسانوں کے کھاتے آدھار سے منسلک نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ان کے کھاتوں میں قسط کی رقم بھی نہیں پہنچ رہی۔مدھیہ پردیش میں پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس کم کیا جائے: کمل ناتھانہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اہل کسانوں کے کھاتوں میں فوری طور پر رقم منتقل کی جائے اور انہیں پریشانی سے بچایا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے گیہوں خریداری کی رقم کھاتوں میں نہ پہنچنے کے معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسان پورا سال محنت سے فصل تیار کرتا ہے، لیکن اگر اس کی محنت کی کمائی سائبر ٹھگوں کے ہاتھ لگ جائے تو یہ انتہائی تشویش کی بات ہے۔ کمل ناتھ نے کہا کہ متاثرہ کسانوں کو جلد مکمل معاوضہ دیا جانا چاہئے اور پورے معاملے کی سختی سے جانچ کی جانی چاہئے۔