معروف عرب میڈیا "العربیہ” نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے حتمی نکات کا اعلان جلد متوقع ہے اور پاکستان سےاہم شخصیت کے ایران پہنچنے کا بھی امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کوششیں رنگ لانے لگیں، معروف عرب میڈیا "العربیہ” نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک ممکنہ معاہدے کے حتمی نکات کا اعلان جلد متوقع ہے، جس کے لیے معاہدے کے بنیادی متن کو حتمی شکل دینے کا کام تیزی سے جاری ہے۔عرب میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ معاہدے کے حتمی نکات اور خدوخال کے باقاعدہ اعلان کے موقع پر پاکستان سے ایک انتہائی اہم اور مقتدر شخصیت کے ایران پہنچنے کا قوی امکان ہے، جن کی موجودگی میں اس ڈیل کو باقاعدہ شکل دی جائے گی۔مصادر العربية: قد يُعلن عن إنجاز الصيغة النهائية للاتفاق بين أميركا وإيران خلال ساعات #العربية_عاجل— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) May 20, 2026العربیہ کا کہنا ہے کہ رواں حج سیزن کے فوراً بعد اس ممکنہ امریکا ایران معاہدے کے حتمی اور تزویراتی نکات پر تفصیلی مذاکرات کا اگلا اور نیا دور پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جو خطے کی سیاست میں اسلام آباد کے مرکزی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس اہم سفارتی پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے واضح طور پر کہا "پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے تحت مذاکرات کا عمل مثبت انداز میں جاری ہے۔ تاہم، ہم اس وقت بین الاقوامی میز پر جس بھی چیز کا تقاضا کر رہے ہیں، وہ ہمارا محض کوئی مطالبہ نہیں بلکہ ایران کا اصولی اور قانونی حق ہے۔”بین الاقوامی دفاعی و سیاسی مبصرین کے مطابق، تہران اور واشنگٹن کو ایک میز پر لانے اور اسلام آباد کو مذاکرات کے اگلے دور کے لیے مرکز بنانے کا فیصلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادلوں کو چھانٹنے میں مددگار ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بے پناہ اضافہ کرے گا۔