ناروے کیصحافی ہیلی لنگ سوینسن نے مودی سے دنیا کے آزاد ترین میڈیا کا سامنا نہ کرنے پر سوال اٹھا دیا

Wait 5 sec.

اوسلو : ناروے کی صحافی ہیلی لنگ سوینسن نے مودی سے دنیا کے آزاد ترین میڈیا کا سامنا نہ کرنے پر سوال اٹھا دیا۔تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ یورپ کے دوران بھارت میں آزادیِ صحافت پر پابندیوں، انسانی حقوق کی پامالیوں اور اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کے عالمی اسکینڈل نے نئی دہلی کو شدید سفارتی ہزیمت سے دوچار کر دیا۔عالمی نشریاتی ادارے "الجزیرہ” کا کہنا ہے کہ یورپین میڈیا کے تیکھے اور سخت سوالات پر مودی کی خاموشی اور بھارتی وفد کے بوکھلاہٹ بھرے رویے نے دنیا بھر میں بھارت کے نام نہاد جمہوری تشخص کو بے نقاب کر دیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ میں اس سنسنی خیز حقیقت کا اعادہ کیا گیا ہے کہ نریندر مودی نے اپنے 12 سالہ طویل اقتدار میں آج تک ایک بھی کھلی پریس کانفرنس کا سامنا نہیں کیا اور وہ ہمیشہ عالمی میڈیا کے چبھتے ہوئے سوالات سے مسلسل گریز کرتے آئے ہیں۔ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026 کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، مودی سرکار کی فاشسٹ پالیسیوں کے باعث بھارت آزادیِ صحافت کے لحاظ سے دنیا کے 180 ممالک میں مزید تنزلی کے بعد 157 ویں نمبر پر جا پہنچا ہے۔دورۂ ناروے کے دوران اس وقت ہنگامہ کھڑا ہو گیا جب ناروے کی نڈر خاتون صحافی ہیلی لنگ سوینسن نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وہ دنیا کے آزاد ترین میڈیا کا سامنا کرنے سے کیوں کتراتے ہیں؟جب ہیلی لنگ نے بھارت میں انسانی حقوق کی دگرگوں صورتحال اور مسلمانوں پر مظالم کا سوال اٹھایا، تو بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اور اعلیٰ عہدیداروں نے تلخ کلامی کرتے ہوئے انتہائی غیر متعلقہ اور مضحکہ خیز جوابات کا سہارا لیا۔ترجمان سے تلخ کلامی کے فوراً بعد بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے منظم بوٹ اکاؤنٹس متحرک ہوئے اور انہوں نے ہیلی لنگ کے میٹا (فیس بک/انسٹاگرام) اکاؤنٹس پر بڑے پیمانے پر رپورٹنگ کر کے انہیں معطل کروا دیا، جس پر یورپی پریس میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق، مودی کو ملامت کرنے میں صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ یورپی حکام بھی پیچھے نہیں رہے، نیدرلینڈز کے وزیر اعظم بھی مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ موجودہ بھارت میں آزادیِ صحافت سلب ہو چکی ہے اور وہاں اقلیتیں، بالخصوص مسلمان، بدترین ریاستی اور سماجی دباؤ کا شکار ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میلان کی عدالت میں اجیت دوول کے خلاف دائر مقدمے کے بعد مودی کا دورۂ یورپ آزادیِ صحافت اور انسانی حقوق کے سوالات کے باعث بھارت کے لیے ایک بھیانک سفارتی ڈراؤنا خواب ثابت ہو رہا ہے۔