شدید گرمی کی لہر سے جھلسے کئی شہر، دہلی میں ٹوٹا 14 سالہ ریکارڈ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: شمالی، وسطی اور مشرقی ہندوستان اس وقت شدید گرمی کی زد میں ہیں اور قومی راجدھانی دہلی سمیت کئی شہروں میں درجہ حرارت خطرناک سطح تک پہنچ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے دہلی اور آس پاس کے علاقوں کے لیے اورنج الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے تک زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے اوپر رہ سکتا ہے۔شدید گرمی کے درمیان سب سے زیادہ توجہ دہلی کے 14 سالہ ریکارڈ پر مرکوز ہے، جہاں بدھ کی رات گزشتہ 14 برس کی سب سے زیادہ گرم رات ریکارڈ کی گئی۔ دہلی کے رج علاقے میں درجہ حرارت 45.8 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا، جس نے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔ملک کے مختلف علاقوں میں گرمی کا اثر غیر معمولی انداز میں نظر آ رہا ہے۔ مدھیہ پردیش کے کھجوراہو اور اتر پردیش کے باندا میں درجہ حرارت 48 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جو ملک کے گرم ترین مقامات میں شامل رہے۔ کھجوراہو میں درجہ حرارت معمول سے تقریباً ساڑھے چار ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔شمالی ہندوستان میں آسمان سے برس رہی آگ! 7 دنوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا امکان، ایڈوائزری جاریمحکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے ودربھ علاقے میں گرمی کا اثر سب سے زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ ہریانہ کے روہتک میں درجہ حرارت معمول سے 6.2 ڈگری سیلسیس جبکہ امبالہ میں تقریباً 7 ڈگری سیلسیس زیادہ درج کیا گیا۔ملک کے کئی حصوں میں آسمان صاف رہنے اور بادل نہ ہونے کے باعث گرمی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث شمالی اور وسطی ہندوستان کے متعدد علاقے شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔شمالی ہندوستان میں شدید گرمی، کئی علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے پارمحکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں شمال مغربی، وسطی اور مشرقی ہندوستان کے کئی علاقوں میں شدید گرمی کی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کو خصوصی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے دوران جسم میں پانی کی کمی، کمزوری اور ہیٹ اسٹروک جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی زیادہ پئیں اور شدید گرمی کے اوقات میں احتیاط اختیار کریں۔