ایک جانب جسٹس سوارن کانتا شراب کیس سے دستبرادر ہو گئی ہیں اور دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے پانچ رہنماوں کے خلاف توہین عدات کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے حکم کے بعد عام آدمی پارٹی کے کئی سرکردہ لیڈروں کو اب ایک نئے قانونی بحران کا سامنا ہے۔ جسٹس سوارن کانتا شرما کی عدالت نے اروند کیجریوال اور کئی دوسرے لیڈروں کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹس اور ایکسائز پالیسی کیس سے متعلق بیانات کے لیے مجرمانہ توہین کی کارروائی شروع کی ہے۔جن عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے ان میں اروند کیجریوال، منیش سسودیا، سنجے سنگھ، سوربھ بھاردواج اور ونے مشرا شامل ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ابتدائی طور پر ان کی کارروائی توہین عدالت ہے۔ عدالت کے مطابق یہ کارروائی عدالتی عمل کے تحفظ اور عدالتی کارروائی کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں پر غیرجانبدارانہ تنقید توہین نہیں ہے لیکن عدالت کے خلاف منصوبہ بند مہم چلانا اور عوام میں عدم اعتماد پیدا کرنا سنگین معاملہ ہے۔عدالت نے کہا کہ اروند کیجریوال اور دیگر لیڈروں کی سوشل میڈیا پوسٹس اور ویڈیوز کا مقصد عدلیہ کی غیر جانبداری کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں شک پیدا کرنا تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کیجریوال ہائی کورٹ کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں تو ان کے پاس سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا آپشن تھا، لیکن انہوں نے قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے ویڈیو اور عوامی مہم کا انتخاب کیا۔جسٹس سوارن کانتا شرما نے ریمارکس دیے کہ کیجریوال کے بیانات نے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی کہ عدالت، حکومت، بی جے پی وغیرہ سالیسٹر جنرل کے زیر اثر کام کر رہی ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ کوئی کس اختیار سے یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ عدالت آزادانہ فیصلے نہیں کرسکتی۔اپنے حکم میں، عدالت نے کہا کہ کیجریوال کے بیانات بنیادی طور پر قابل مذمت ہیں اور مجرمانہ توہین کے مترادف ہیں۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سنجے سنگھ اور ونے مشرا کی سوشل میڈیا پوسٹیں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔عدالت نے سوربھ بھاردواج کی طرف سے پوسٹ کی گئی ویڈیو پر بھی سخت تبصرہ کیا اور اسے پریشان کن قرار دیا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ یہ ویڈیو عام آدمی پارٹی کے آفیشل اکاؤنٹ سے بھی نشر کیا گیا تھا۔عدالت نے واضح طور پر کہا کہ یہ کارروائی کسی ذاتی ناراضگی یا غصے کی وجہ سے نہیں کی جا رہی ہے۔ عدالت تمام فریقین کا احترام کرتی ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایک مکمل خود شناسی کے عمل کے بعد اور متعلقہ رہنماؤں کے اقدامات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔