’حکومت پھر وہی غلطی کرنے جا رہی‘، حد بندی بل لانے کی خبر سے ناراض کھڑگے نے پی ایم مودی کو لکھا خط

Wait 5 sec.

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ اس دوران مرکز کی مودی حکومت ایک بار پھر خواتین کے ریزرویشن اور لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کرنے والے حد بندی بل کو پیش کر سکتی ہے۔ اس خبر پر کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے اس تعلق سے نہ صرف افسوس ظاہر کیا ہے، بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کو خط بھی لکھا ہے۔ کانگریس صدر نے ترمیم شدہ 131ویں آئینی ترمیمی بل کے سلسلے میں وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر کل جماعتی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔My letter to the PM Modi, once again requesting him to convene an All Party Meeting to discuss the Government’s revise proposals on Delimitation etc. All of March and April, 2026, I had been writing to Hon'ble Minister of Parliamentary Affairs requesting that the Union… pic.twitter.com/FidK3kDSek— Mallikarjun Kharge (@kharge) July 16, 2026کانگریس صدر کھڑگے نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’’میں معزز وزیر پارلیمانی امور کو خط لکھ کر مسلسل درخواست کرتا رہا ہوں کہ مرکزی حکومت حد بندی وغیرہ کے سلسلے میں اپنی تجاویز پر تبادلۂ خیال کے لیے ایک کل جماعتی اجلاس بلائے۔ ہماری ان درخواستوں کو قبول نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد آئین (131ویں ترمیم) بل، 2026، 17 اپریل کو لوک سبھا میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں واضح فرق سے ناکام رہا۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’میں میڈیا رپورٹس میں پڑھ رہا ہوں کہ مرکزی حکومت اب پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس کے دوران 131ویں آئینی ترمیمی بل، 2026 کو دوبارہ پیش کرنے کی تجویز رکھتی ہے۔ میں ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں کہ حد بندی وغیرہ پر حکومت کی ترمیم شدہ تجاویز پر بحث کے لیے ایک کل جماعتی اجلاس بلایا جائے۔ اسے پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے ہمیں ان کا تفصیل سے مطالعہ کرنے کے لیے کافی وقت دیا جائے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے اس بارے میں پہلے ہی اپنے فیصلہ سے مطلع کر دیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں حد بندی بل اور کئی دیگر ممکنہ بلوں کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ کانگریس رام مندر کے نذرانوں کی مبینہ چوری، پیپر لیک، ایتھنول اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر بھی حکومت سے بحث اور جواب کا مطالبہ کرے گی۔ پارٹی نے کہا کہ لوک سبھا میں حکمراں پارٹی کو دو تہائی اکثریت ملنے کا امکان نہیں ہے، اس کے باوجود وہ مضبوطی کے ساتھ اپوزیشن کا اتحاد برقرار رکھنے کے لیے مختلف پارٹیوں سے رابطے میں ہے۔پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: کانگریس چندہ چوری، پیپر لیک اور مہنگائی سمیت اہم مسائل پر مودی حکومت کو گھیرے گیپارٹی کی پارلیمانی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کی رہائش گاہ ’10، جن پتھ‘ پر آج ایک اجلاس بھی منعقد ہوا۔ اس میں کانگریس صدر کھڑگے، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، تنظیم کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، راجیہ سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ جئے رام رمیش سمیت کئی سینئر لیڈران موجود تھے۔