حسینہ واجد کے اربوں ڈالر کے اثاثے ضبط

Wait 5 sec.

ڈھاکا (16 جولائی 2026): بنگلہ دیش کی حکومت نے سابق معزول اور مفرور وزیراعظم حسینہ واجد کے اربوں ڈالر کے اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق عوامی احتجاج کے نتیجے میں معزول ہو کر اپنے دوست ملک بھارت فرار ہونے والی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور ان سے متعلقہ 6 ارب 20 کروڑ ڈالر (16 کھرب 61 ارب 60 کروڑ پاکستانی روپے) کے اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ضبط کیے گئے اثاثوں کا تعلق شیخ حسینہ واجد، ان کے خاندان اور ان سے متعلقہ 10 بزنس گروپس سے ہے۔ضبط کیے گئے اثاثے بنگلہ دیش کے علاوہ دیگر ممالک میں موجود اثاثے بھی شامل ہیں۔بنگلہ دیش فنانشل انٹیلی جنس یونٹ (بی ایف آئی یو) کے مطابق ملک کے اندر 570 ارب ٹکا اور بیرون ملک مزید 190 ارب ٹکا مالیت کے اثاثے ضبط کیےگئے ہیں۔شیخ حسینہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش سے فرار کے بعد سے تاحال بھارت میں مقیم ہیں اور بنگلہ دیشی حکومت نے بھارت نے ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔شیخ حسینہ واجد نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ رواں سال کے اختتام تک وطن واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ جس پر بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ وہ ایک سزا یافتہ مجرم ہیں اور وطن واپسی پر ان کا ٹھکانہ جیل ہوگا۔اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد شیخ حسینہ کو متعدد مقدمات میں ان کی عدم موجودگی میں سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں، جن میں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت بھی شامل ہے۔بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم یا’’سونے کی ملکہ‘‘ ! حسینہ واجد کے لاکر سے 10 کلو سونا برآمد