ہندوستان سے امریکہ جانے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں بھاری کمی آئی ہے۔ یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) کے نئے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 میں مئی کے مہینے تک امریکی سرحد پر صرف 20614 ہندوستانی تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر داخل ہوتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔ یہ تعداد 2023 کی اسی مدت کے مقابلے میں 69 فیصد کم ہے۔ 2023 میں یہ تعداد 67000 سے تجاوز کر گئی تھی۔’ڈنکی روٹ‘ سے امریکہ جانے کے دوران ہندوستانی شہری کی موت، لاش کی وطن واپسی کے لیے کنبہ نے حکومت ہند سے مانگی مدد’ہندوستان ٹائمز‘ کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق میکسیکو کے راستے امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ہندوستانیوں کی تعداد میں 99 فیصد کی سب سے بڑی گراوٹ آئی ہے۔ دوسری جانب کناڈا کے راستے غیر قانونی طور پر دراندازی کرنے والے ہندوستانیوں کے معاملات میں 91 فیصد کی کمی آئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب دونوں سرحدوں (کناڈا اور میکسیکو) پر ہندوستانی تارکین وطن کا غیر قانونی طریقوں سے امریکہ میں داخل ہونا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔سی بی پی کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 (اکتوبر سے مئی کے درمیان) میں ریکارڈ 67212 ہندوستانی تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر سرحد پار کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ مالی سال 2025 میں یہ تعداد گھٹ کر تقریباً 29000 رہ گئی۔ دوسری طرف اکتوبر 2025 سے مئی 2026 کے درمیان یہ تعداد مزید کم ہو کر محض 20614 رہ گئی ہے۔ اس گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ ٹرمپ حکومت کی سخت پالیسیاں ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ نے سرحدوں پر سیکورٹی انتہائی سخت کر دی ہے۔ جب لوگوں کو یہ سمجھ آ گیا کہ غیر قانونی راستے سے جانے پر بھی امریکہ میں انٹری نہیں ملے گی، تو تارکین وطن نے وہاں جانا بند کر دیا۔ ’نسکانن سنٹر‘ کے ماہر گلبرٹ گویرا کے مطابق امریکی سرحد پر پہنچنے والے تارکین وطن کو اب انٹری دینے سے صاف انکار کیا جا رہا ہے۔2023 کے ابتدائی مہینوں میں جہاں 30109 ہندوستانی تارکین وطن کو بارڈر پر روکا یا پکڑا گیا تھا، وہیں 2026 کے مئی کے مہینے تک یہ تعداد گھٹ کر صرف 417 رہ گئی ہے۔ کناڈا کی طرف سے امریکہ میں داخل ہونے والے ہندوستانیوں کی تعداد میں بھی 91 فیصد کی کمی آئی ہے۔ یہاں رواں سال 2250 معاملے درج کیے گئے۔ افسران کے مطابق میکسیکو کے مقابلے کناڈا سے اب بھی زیادہ ہندوستانی امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کناڈا میں پہلے سے ہی بہت بڑی تعداد میں ہندوستانی رہتے ہیں، جس سے نئے تارکین وطن کے لیے وہاں سے داخل ہونا آسان ہو جاتا ہے۔