دہلی میں حقیقی فضائی آلودگی 48 دن سے مسلسل گزشتہ سال سے زیادہ، حکومت کی پالیسیاں ناکام: اجے ماکن

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کے حوالے سے تازہ تجزیہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ موسمی اثرات کو مکمل طور پر الگ کرنے کے بعد بھی دہلی میں پی ایم 10 کی سطح مسلسل 48 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فضائی آلودگی میں اضافہ صرف موسمی حالات کی وجہ سے ہوتا تو گزشتہ 48 دنوں میں کم از کم چند دن ایسے ضرور ہوتے جب آلودگی کی سطح گزشتہ سال سے کم ہوتی، تاہم ایسا ایک بھی دن سامنے نہیں آیا۔اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں کہا کہ ان کا تجزیہ 15 جولائی صبح 10 بجے سے 16 جولائی صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جبکہ نتائج کا موازنہ گزشتہ سال 9 جولائی سے 23 جولائی 2025 کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا ہے تاکہ کسی ایک دن کے موسمی اتار چڑھاؤ سے نتائج متاثر نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے فضائی معیار اشاریے کے مطابق دہلی کا اوسط فضائی معیار اشاریہ 168 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد بھی یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق حقیقی فضائی آلودگی کی سطح جانچنے کے لیے بارش، ہوا کی رفتار اور درجہ حرارت جیسے موسمی عوامل کو ریاضیاتی طریقے سے الگ کیا جاتا ہے، جس کے بعد سامنے آنے والے اعداد و شمار شہر کی اصل آلودگی کی عکاسی کرتے ہیں۔اجے ماکن کے مطابق اس سال بارش گزشتہ سال کے 5.4 ملی میٹر کے مقابلے میں صفر ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث فضائی آلودگی کے ذرات فضا سے صاف نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد فضائی معیار اشاریہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 19 پوائنٹس زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جو حقیقی آلودگی میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد جبکہ پی ایم 2.5 کی سطح 33 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق یہ تخمینے ماڈل پر مبنی ہیں، تاہم ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ محض موسمی اتار چڑھاؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا عکاس ہے۔اجے ماکن نے مزید کہا کہ پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کے حوالے سے دہلی کے تمام 43 فضائی نگرانی مراکز کے اعداد و شمار عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے زیادہ ہیں اور موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد بھی ان تمام مراکز پر آلودگی کی سطح عالمی معیار سے اوپر برقرار رہتی ہے۔ ان کے مطابق فضائی معیار کے لحاظ سے سب سے زیادہ خراب صورتحال آنند وہار میں ریکارڈ کی گئی، جہاں فضائی معیار اشاریہ 378 تک پہنچ گیا، جبکہ اس میں پی ایم 10 کا بڑا کردار ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی ایم 10 کے ذرائع، جن میں تعمیراتی سرگرمیوں اور سڑکوں کی دھول شامل ہے، اور پی ایم 2.5 کے ذرائع، جن میں صنعتیں، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اور حیاتیاتی ایندھن کا جلایا جانا شامل ہے، کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ وزیرپور جیسے علاقوں میں مقامی سطح پر آلودگی کے ذرائع پر قابو پایا جائے، صحت سے متعلق انتباہ جاری کیا جائے اور تمام فضائی نگرانی مراکز کے حقیقی وقت کے فضائی معیار کے اعداد و شمار شہریوں کے لیے عوامی طور پر دستیاب کیے جائیں۔ اجے ماکن نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا، ’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں۔‘