جے پور : بھارت میں گزشتہ سال 9 سالہ طالبہ کی ہلاکت کے مقدمے میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عمائرہ کی مدد اپیل پر کلاس ٹیچر نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔بھارت کی ریاست راجستھان کے شہر جے پور میں گزشتہ سال چوتھی جماعت کی 9 سالہ طالبہ عمائرہ کمار مینا کی موت کی بنیادی وجہ اسکول میں مسلسل ہراساں کیا جانا اور انتظامیہ کی انتہائی غفلت تھی، جس سے دلبرداشتہ ہو کر اس نے اسکول کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگائی تھی۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق واقعے کے تقریباً ایک سال بعد عمائرہ کے کلاس روم کی نئی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے، اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ موت سے چند لمحے پہلے معصوم بچی کلاس ٹیچر کے سامنے کھڑی مدد کی التجا کرتی رہی، مگر اس کی فریاد پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بچی کے والدین نے بتایا کہ ہماری بیٹی کو گزشتہ 18 ماہ سے کلاس کے بچوں کی جانب سے شدید ذہنی اذیت دی جارہی تھی، غیر اخلاقی حتیٰ کہ نازیبا جنسی جملے بھی کسے جاتے تھے۔بچی کے والد نے بتایا کہ وقوعہ کے روز عمائرہ نے کلاس روم میں شدید ہراسانی سے تنگ آکر تقریباً 5 بار ہاتھ جوڑ کر اپنی کلاس ٹیچر سے مدد کی فریاد کی تھی لیکن ٹیچر نے اس کی فریاد کو بالکل نظر انداز کر دیا اور مبینہ طور پر اس پر غصہ کیا۔عمائرہ کے والدین کا کہنا تھا کہ اسکول انتظامیہ کو تحریری طور پر کئی بار شکایت بھی کی تھی، لیکن انہوں نے بچوں کو روکنے کے بجائے عمائرہ کو ہی "ایڈجسٹ” کرنے کا مشورہ دیا اور اسے کسی کاؤنسلر کے پاس بھی نہیں بھیجا گیا۔یکم نومبر 2025 کو کلاس روم میں مسلسل 55 منٹ تک ساتھی بچوں کے مذاق اور ٹیچر کی بے رخی کو برداشت کرنے کے بعد عمائرہ دلبرداشتہ ہوکر شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوگئی۔ وہ واش روم جانے کا بہانہ بنا کر کلاس سے نکلی اور 48 فٹ کی بلندی سے نیچے چھلانگ لگا دی۔