امریکا نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار بڑھا دیا

Wait 5 sec.

واشنگٹن/تہران (13 جولائی 2026): امریکا نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار پہلے کی نسبت کافی حد تک بڑھا دیا ہے، ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی تازہ حملوں کی لہر نے جنوبی اور مغربی ایران کے ایک وسیع حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان حملوں میں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں قشم، سرک، بندرعباس، جسک، بوشہر، خندب، مہشہر، آبادان، خرمشہر سمیت کئی علاقے شامل ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکی تازہ حملوں میں ایک سیکیورٹی گارڈ کی ہلاکت اور 4 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے تنازع پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے، جب کہ تہران کا کہنا ہے کہ تازہ حملوں نے گزشتہ چند مہینوں کی تمام سفارتی کوششوں کو ’’بے معنی‘‘ بنا دیا ہے۔امریکی فوج نے اتوار کو رات 9 بجے (جی ایم ٹی) ایران پر مزید حملے شروع کیے۔ سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایکس پر کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے تاکہ وہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرنے والے شہری بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں پر حملے نہ کر سکے۔امریکا اور ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہسینٹ کام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی افواج کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ان حملوں کا حکم دیا، ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں ایران پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’ہم انھیں بری طرح مار رہے ہیں۔‘‘اتوار کے روز اس سے قبل تہران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کہا کہ اس نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کر دی ہے۔ اس نئی کشیدگی نے گزشتہ ماہ طے پانے والے امریکا اور ایران کے عبوری جنگ بندی معاہدے کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم سینٹکام کے مطابق کچھ جہاز اب بھی اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے تھے۔دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ امریکا کے تازہ حملوں کی رفتار اور دائرہ کار پہلے سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ سینٹ کام کے مطابق صرف ہفتہ کی رات تقریباً 140 حملے کیے گئے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ اس نے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے، جب کہ علاقے میں کنٹرول کی کشمکش جاری ہے۔دوسری طرف اتوار کو ایران کے حملے قطر تک بھی پھیل گئے، جو جنگ بندی مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا اور اپریل کے بعد پہلی بار حملوں کی زد میں آیا۔ متحدہ عرب امارات، جسے مئی کے اوائل کے بعد نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، نے بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکا۔سینٹکام نے ہفتہ کو بتایا کہ امریکی افواج نے اس ہفتے تین راتوں کے دوران ایران کے 300 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جب کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کے جواب میں اس نے اردن، کویت، عمان اور قطر میں اہداف پر حملے کیے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔