جلد ہی آپ کے ہاتھوں میں بھی پلاسٹک کے نوٹ ہوں گے۔ آر بی آئی کی طرف سے بڑی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ ’بزنس ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق شروعاتی دور میں 10 روپے اور 20 روپے کے ہی نوٹ پلاسٹک میں جاری ہوں گے۔ پالیمر کے نوٹ آنے کے بعد دہائیوں پرانا نظام بدل جائے گا۔ واضح رہے کہ موجودہ وقت میں ریزرو بینک آف انڈیا کی طرف سے کاغذ کے نوٹس پرنٹ کیے جا رہے ہیں۔ ان نوٹس کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ ان کے جلد پھٹ جانے کا رہتا ہے۔ اس پریشانی سے نجات پانے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا پالیمرس کے نوٹ لانے کی کوشش کر رہا ہے۔بازار میں ’پلاسٹک کا نوٹ‘ لانے کی ہو رہی تیاری، آر بی آئی کی بورڈ میٹنگ میں ہوئی سنجیدہ گفتگوپلاسٹک نوٹ اب حقیقت بننے کی سمت میں ہے۔ ہندوستان کے لیے نوٹ چھاپنے والی کمپنیوں میں سے ایک ’بھارتیہ ریزرو بینک نوٹ مُدرا پرائیویٹ لمیٹڈ‘(بی آر بی این ایم پی ایل) نے ملک میں پالیمر سبسٹریٹ شیٹس بنانے کی سہولت شروع کرنے کے لیے ای او آئی جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ پالیمر سبسٹریٹ سے بنے نوٹ کافی مضبوط ہوں گے۔ یہ نوٹ بہت طویل عرصے تک چلتے ہیں۔ 17 جولائی کو جاری ای او آئی کے مطابق ایسے ایک شراکت دار کی تلاش کی جا رہی ہے جسے سیکورٹی-گارڈ پولیمر سبسٹریٹ یعنی خاص پلاسٹک نوٹ بنانے میں مہارت حاصل ہو۔ سیکورٹی-گارڈ پولیمر سبسٹریٹ ایک خاص پلاسٹک ہوتا ہے۔ اسی پر نوٹ چھاپے جاتے ہیں۔بی آر بی این ایم پی ایل کی توجہ صرف مٹیریل درآمد کرنے پر نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ٹیکنالوجی کی منتقلی اور باہمی تعاون کے ذریعے ملکی سطح پر اس کی پیداوار کو ممکن بنانا ہے۔ فی الحال اس وقت ایسی کمپنیوں کی نشاندہی کرنا ہے جو ہندوستان کو ملکی سطح پر پالیمر نوٹ بنانے میں مدد کر سکیں۔ واضح رہے کہ ای او آئی خریداری کا کوئی آرڈر نہیں ہے، بلکہ یہ تجارتی پیداوار شروع کرنے سے پہلے ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ایک بہتر شراکت دار کی تلاش ہے۔قابل ذکر ہے کہ کاغذ کے نوٹ کے مقابلے میں پلاسٹک کے نوٹ طویل عرصے تک چلتے ہیں۔ یہ پانی اور نمی وغیرہ سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ کاغذ کے نوٹ کے مقابلے میں پلاسٹک کے نوٹ پر دھول کم لگتی ہے۔ موجودہ وقت میں 60 سے زائد ممالک نے پلاسٹک کے نوٹ اپنا لیے ہیں۔