نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو تناؤ سے پاک اور محفوظ تعلیمی ماحول میسر آ سکے اور والدین کو ان کی قربانیوں کے بدلے آنسوؤں کے بجائے خوشی اور اطمینان حاصل ہو۔راہل گاندھی نے گزشتہ شب دہرادون میں منعقدہ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام میں ایسی بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جو طلبہ کو ذہنی دباؤ، غیر یقینی صورتحال اور امتحانات سے متعلق مسائل سے محفوظ رکھ سکیں۔انہوں نے پروگرام کے دوران نیٹ-یو جی امتحان کے پیپر لیک کے الزامات کے بعد پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے متوفی طالبہ ریا کماری کے والد راجیش کمار کے جذباتی لمحات کو یاد کیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اپنی بیٹی کو کھونے کے بعد راجیش کمار اس قدر ٹوٹ چکے ہیں کہ انہیں دیکھنے والے ہر شخص کی آنکھیں نم ہو گئیں۔راہل گاندھی نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کا درد نہیں ہے بلکہ پیپر لیک جیسے واقعات نے کئی خاندانوں سے ان کے بچے چھین لیے ہیں۔ ان کے مطابق ہر ایسے نام کے پیچھے ایک ماں اور ایک باپ کی تکلیف پوشیدہ ہے، جن کے لیے مستقبل کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے ماند پڑ چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو اس انداز میں تشکیل دینا ہوگا جہاں بچوں کو تناؤ نہیں بلکہ تحفظ حاصل ہو۔ ان کے مطابق والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے برسوں محنت کرتے ہیں اور بے شمار قربانیاں دیتے ہیں، اس لیے انہیں اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی خوشی ملنی چاہیے، نہ کہ مایوسی اور غم۔راہل گاندھی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مقصد صرف امتحانات کے انعقاد کے طریقہ کار کو بہتر بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہے جس میں طلبہ خود کو محفوظ، پُرسکون اور پراعتماد محسوس کریں۔रिया के पिता, राजेश जी बेटी को खोकर इस तरह टूटे कि उन्हें देखने वाले हर शख़्स की आँखें भर आईं।यह सिर्फ़ एक परिवार का दर्द नहीं। पेपर लीक ने ऐसे कई परिवारों से उनका बच्चा छीन लिया।हर नाम के पीछे एक माँ है, एक पिता है - जिनके लिए अब कोई कल नहीं।इस System को नए सिरे से बनाना… pic.twitter.com/wCGC5lleh1— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) July 18, 2026انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مفادات کو ہر حال میں ترجیح دی جانی چاہیے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔خیال رہے کہ کہ دہرادون میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ تعلیمی اداروں اور امتحانی ایجنسیوں پر کسی سیاسی جماعت یا تنظیم کا اثر و رسوخ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے امتحانی نظام میں شفافیت اور پیپر لیک جیسے مسائل کے مستقل حل کے لیے ملک میں سیاسی اتفاق رائے قائم کرنے کی بھی وکالت کی تھی۔