مرکز کی ’حدبندی بل‘ کے خلاف اسٹالن اور وزیر اعلیٰ وجے نے ملایا ہاتھ، مل کر کریں گے مقابلہ

Wait 5 sec.

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل تمل ناڈو میں حد بندی کو لے کر سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کی پارٹی ڈی ایم کے اور وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کی ٹی وی کے نے اس بل کی سخت مخالفت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت کے 20 جولائی سے شروع ہونے والے مانسون اجلاس کے ایجنڈے میں ’حد بندی پیکج‘ شامل نہیں ہے، لیکن تمل ناڈو میں اس کے خلاف صف بندی شروع ہو گئی ہے۔ ریاست کی اہم پارٹی ڈی ایم کے اور برسراقتدار جماعت ٹی وی کے نے واضح کر دیا ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں نئی حد بندی نافذ کرنے سے متعلق کوئی بھی بل لایا جاتا ہے، تو اس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ڈی ایم کے کے ترجمان سرونن انادورئی نے جمعہ (17 جولائی) کو واضح کیا کہ اگر مرکز کی بی جے پی حکومت ریاستوں کے حقوق کو پامال کرنے والا یا آئین کے خلاف کوئی نیا قانون لاتی ہے، تو پارٹی اس کے خلاف کھڑی ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کی جانب سے اس معاملے پر کل جماعتی اجلاس بلانے کے اشارے دیے گئے ہیں، لیکن پارٹی کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے مکمل معلومات ملنے کا انتظار کرے گی۔ انادورائی کے مطابق اگر پچھلی بار کی طرح بل پاس کیا گیا، تو اس میں ہمارا ہی نقصان ہے۔اس سے قبل 16 جولائی کو ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن نے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی تھی۔ اس دوران انہوں نے اراکین پارلیمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ پارلیمنٹ میں ایک تعمیری اپوزیشن کا کردار نبھائیں اور تمل ناڈو کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی قدم کی ڈٹ کر مخالفت کریں۔واضح رہے کہ ڈی ایم کے طویل عرصے سے حد بندی کی تجویز کی کھل کر مخالفت کرتی آئی ہے۔ رواں سال 16 اپریل کو ایم کے اسٹالن نے اس مجوزہ بل کی ایک علامتی کاپی کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے جلا دیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ اس کا تمل لوگوں پر بہت برا اثر پڑے گا۔ اگلے ہی دن پارلیمنٹ میں یہ بل اور اس سے متعلقہ آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ٹی وی کے کے سربراہ اور ریاست کے وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے بھی اس معاملے میں پوری طرح سے ڈی ایم کے کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں۔ اسمبلی انتخاب سے قبل ہی وجے نے حد بندی کی مشق کو مرکزی حکومت کا امتیازی قدم قرار دیا تھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد 10 جولائی کو کرور کے دورے پر انہوں نے اپنے موقف کو ایک بار پھر واضح کیا۔ وزیر اعلیٰ وجے نے کہا کہ ’’مرکزی حکومت کی جانب سے حد بندی نافذ کرنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اسے کوئی بھی پیش کرے، تمل ناڈو اسے سختی سے مسترد کرے گا۔ ہم اپنی جائز نمائندگی چھیننے نہیں دیں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ کوئی ہمارا حق نہ مار سکے۔‘‘ایک طرف جہاں ریاست کی اہم پارٹیاں اس کی مخالفت میں کھل کر سامنے آ رہی ہیں، وہیں بی جے پی نے حد بندی کا دفاع کیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان نارائنن تروپتی نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’حد بندی تو ہونی ہی ہے، حقیقت میں اسے 2000 میں ہی ہو جانا چاہیے تھا۔‘‘ دوسری طرف اس پورے تنازعہ پر اہم اپوزیشن پارٹی اے آئی اے ڈی ایم کے کے لیڈران نے فی الحال کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔