نیویارک : امریکی اسپتال میں 12 سینئر نرسوں کو ملازمت سے فارغ کرکے ان کی جگہ اے آئی سافٹ ویئر سے کام لیا جائے گا۔امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک کے مونٹی فیور میڈیکل سینٹر میں 12 سینئر نرسوں کو ملازمت سے فارغ کر کے ان کی جگہ اے آئی سافٹ ویئر متعارف کرا دیا گیا ہے۔متاثرہ نرسوں کا تعلق اس شعبے سے تھا جو مریضوں کے ریکارڈ کا جائزہ لے کر انشورنس کمپنیوں سے طبی اخراجات کی منظوری لیتی تھیں۔اسپتال کی نرسوں اور یونینز کی جانب سے اس اقدام پر شدید تنقید اور تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے جس کے ردعمل میں ترجمان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صرف انتظامی اور دفتری امور میں استعمال کیا جا رہا ہے، نہ کہ مریضوں کے براہِ راست طبی علاج یا تشخیص کے لیے۔تاہم انتظامیہ نے نرسوں کی برطرفی اور اے آئی کے درمیان تعلق پر تفصیلی مؤقف دینے سے گریز کیا۔رپورٹ کے مطابق اسپتال نے اپنے بعض انتظامی کاموں کے لیے اے آئی پر مبنی سافٹ ویئر متعارف کرایا ہے، جس کے بعد متاثرہ نرسوں کو برطرفی کے نوٹس جاری کیے گئے۔39سالہ تجربہ کار نرس میرلین شولر نے اپنی برطرفی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کے ساتھ اس طرح کا سلوک بے عزتی اور انتہائی مایوس کن ہے۔دوسری جانب نیشنل نرسز یونائیٹڈ سمیت کئی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسپتال مستقبل میں اے آئی کا استعمال بنیادی طور پر لیبر لاگت کم کرنے کے لیے کرسکتے ہیں، جس سے ملازمتوں کو خطرات لاحق ہوں گے۔اے آئی کی تشخیص پر بھی سوالات کھڑے ہوگئےرپورٹس میں بعض مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت طبی تشخیص میں کئی مواقع پر غلطی کرسکتی ہے اور مختلف تحقیقاتی رپورٹس نے اس کی کارکردگی اور درستگی سے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان دعوؤں کی نوعیت مختلف مطالعات پر مبنی ہے اور ان کے نتائج تمام اے آئی طبی نظاموں پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتے۔