دہرادون میں کانگریس کے پروگرام 'چھاتروں کی گونج' سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ملک کے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں اور امتحانی ایجنسیوں کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات کے انعقاد کے موجودہ طریقۂ کار میں کئی خامیاں موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے پالیسی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران ملک میں 152 پیپر لیک کے واقعات پیش آئے، لیکن ان معاملات میں ایک بھی شخص کو سزا نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ملک کے کروڑوں طلبہ کے اعتماد کو مجروح کرنے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امتحانی نظام میں جواب دہی کا مؤثر نظام موجود ہو تو ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپر لیک کا مسئلہ صرف ایک انتظامی خرابی نہیں بلکہ پورے نظام سے وابستہ معاملہ ہے، جس کے مختلف پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس مسئلے نے لاکھوں طلبہ اور ان کے اہل خانہ کو ذہنی، تعلیمی اور مالی مشکلات سے دوچار کیا ہے۔راہل گاندھی نے تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی جامعات، قومی امتحانی ایجنسیاں اور دیگر تعلیمی ادارے کسی بھی سیاسی جماعت یا تنظیم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور قومی سطح پر امتحانات منعقد کرنے والے اداروں کے ذمہ داران کی تقرری مکمل طور پر غیر جانب دارانہ اور ادارہ جاتی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی ساکھ اور طلبہ کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان اداروں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھا جائے۔ ان کے مطابق امتحانی نظام پر عوامی اعتماد اسی صورت میں بحال ہو سکتا ہے جب اداروں کی خودمختاری اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔راہل گاندھی نے امتحانات کے انعقاد کے طریقۂ کار میں تبدیلی کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ قومی سطح کے تمام امتحانات کو لازمی طور پر ایک ہی دن منعقد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سوالناموں کے رینڈمائزیشن کے ذریعے امتحانات کو مختلف دنوں میں بھی منعقد کیا جا سکتا ہے، جس سے پیپر لیک کے امکانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ان کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں ٹیکنالوجی کی مدد سے امتحانی نظام کو زیادہ محفوظ اور مؤثر بنایا جا رہا ہے، اس لیے ہندوستان میں بھی جدید طریقوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانی نظام میں لچک پیدا کرنے سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ طلبہ کے مفادات کا بہتر تحفظ بھی ممکن ہو سکے گا۔راہل گاندھی نے کہا کہ امتحانات کا انعقاد حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس اہم کام کو نجی کمپنیوں کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق نجی اداروں کا بنیادی مقصد منافع کمانا ہوتا ہے، جبکہ امتحانی نظام میں طلبہ کے مستقبل اور عوامی اعتماد کا معاملہ شامل ہوتا ہے، اس لیے اس کی مکمل ذمہ داری حکومت کے پاس ہونی چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی امتحان کا پیپر لیک ہو جائے تو اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ طلبہ کے مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ ان کے مطابق ایسے معاملات میں دوبارہ امتحان منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرہ طلبہ کو مناسب معاوضہ دینے کے امکانات پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔راہل گاندھی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جن خاندانوں نے پیپر لیک کے باعث اپنے بچوں کو کھو دیا، ان کے ساتھ ہمدردی اور حساسیت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ حکومت کی جانب سے مؤثر رابطہ اور اظہار افسوس بھی ضروری ہے۔پروگرام کے دوران متعدد طلبہ نے امتحانی نظام میں شفافیت، پیپر لیک کے واقعات کی روک تھام اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے تجربات بھی حاضرین کے سامنے بیان کیے۔