پیپر لیک اور امتحانات میں بے ضابطگی سے ناراض سونم وانگچک دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ 3 ہفتوں سے بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ وہ مرکز کی مودی حکومت سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ طلب کر رہے تھے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی طبیعت ناساز ہو رہی تھی، اور یہ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا تھا۔ امید کی جا رہی تھی کہ حکومت کا کوئی نمائندہ ان سے بات کرنے پہنچے گا اور بھوک ہڑتال ختم کرنے کی گزارش کرے گا، لیکن آج انھیں دہلی پولیس نے جبراً اٹھا کر صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرا دیا۔ اس معاملہ پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے مرکز کی مودی حکومت کو ظالم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حکومت نے کسی کو بھی نہیں بخشا۔111 दिन तक माँ गंगा को बचाने के लिए आमरण अनशन पर बैठे प्रो॰ जी डी अग्रवाल हों या हरियाणा की ओलिंपिक रेसलर हों, हमारे 750 अन्नदाता किसान हों, दलित-आदिवासी हों, या फ़िर पेपर लीक की बलि चढ़े 25 बच्चे और उनके परिजन, इस तानाशाह सरकार ने किसी को नहीं बख़्शा…इनकी नज़र में कोई भी…— Mallikarjun Kharge (@kharge) July 18, 2026ملکارجن کھڑگے نے یہ تلخ تبصرہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’چاہے پروفیسر جی ڈی اگروال ہوں (جنہوں نے ماں گنگا کو بچانے کے لیے تامرگ 111 دن تک بھوک ہڑتال کی) یا ہریانوی اولمپک پہلوان، چاہے ہمارے 750 اَن داتا، دلت اور آدیواسی ہوں، یا پیپر لیک کے لیے قربان کیے گئے 25 بچے اور ان کے خاندان... اس ظالم حکومت نے کسی کو بھی نہیں بخشا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’اس حکومت کی نظر میں جو بھی اپنی آواز اٹھاتا ہے، وہ ’ملک دشمن‘ اور ’پیراسائٹ‘ ہے۔‘‘سونم وانگچک کو جنتر منتر سے جبراً صفدر جنگ اسپتال لے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’آج جنتر منتر پر جو کچھ ہوا، وہ جمہوریت اور آئین پر ایک اور سیاہ داغ ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے راہل گاندھی کی قیادت میں ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’’چھاتروں کی گونج کی للکار کوٹا اور دہرادون سے شروع ہو چکی ہے... یہ یقیناً دہلی کی دہلیز تک پہنچے گی۔‘‘Instead of removing Dharmendra Pradhan from his post, they removed Sonam Wangchuk ji from his protest site. There was need for compassion and humanity on part of the Government, but in true fascist fashion, they chose to break a peaceful protest because the public pressure was…— K C Venugopal (@kcvenugopalmp) July 18, 2026کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے بھی سونم وانگچک کے ساتھ حکومت کے رویہ کی سخت تنقید کی ہے۔ انھوں نے ’ایکس‘ پر جاری کردہ پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’دھرمیندر پردھان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی جگہ انہوں نے سونم وانگچک کو ان کے احتجاجی مقام سے ہٹا دیا۔ حکومت کی جانب سے ہمدردی اور انسانیت کی ضرورت تھی، لیکن حقیقی فاشسٹ انداز میں انہوں نے ایک پُرامن احتجاج کو توڑنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ عوامی دباؤ ان پر بڑھ رہا تھا۔‘‘کانگریس جنرل سکریٹری نے دہلی پولیس کی کارروائی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایک انتہائی قابل مذمت عمل ہے، جس کی عوام مناسب وقت پر سزا دے گی۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں اپنا احتجاج پوری شدت کے ساتھ جاری رکھیں گی۔‘‘ سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس شروع ہونے سے پہلے دھرمیندر پردھان کو وزیر تعلیم کے عہدے سے ہٹایا جائے۔‘‘